Recitation

Next: 25_8


Arabic

وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ لَوۡلَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَلَكٞ فَيَكُونَ مَعَهُۥ نَذِيرًا


Urdu

کہتے ہیں “یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا؟


English

And they say, “What is this messenger that eats food and walks in the markets? Why was there not sent down to him an angel so he would be with him a warner


Tafsir — Bayan ul Quran

حق کے ہر داعی کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ اس کے زمانہ کے لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا۔ اور بعد کے لوگوں نے اس کی پرستش کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی زندگی میں وہ اپنی حقیقی شخصیت کے ساتھ لوگوں کے سامنے ہوتا ہے۔ اس ليے وہ انھیں بس ایک عام انسان کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ مگر بعد کو اس کی شخصیت کے گرد افسانوی قصوں کا ہالہ بن جاتا ہے۔ بعد کے لوگ اس کو مبالغہ آمیز روپ میں دیکھتے ہیں۔ اس ليے بعد کے لوگ مبالغہ آمیز حد تک اس کی تعظیم وتقدیس کرنے لگتے ہیں۔ بعد کے زمانے میں لوگوں کے ذہنوں میں پیغمبر کی غیر معمولی عظمت قائم ہوجاتی ہے۔ اس ليے کوئی بڑا اپنے آپ کو پیغمبر سے بڑا نہیں پاتا۔ مگر پیغمبر کی زندگی میں اس کی جو ظاہری صورت حال ہوتی ہے وہ وقت کے بڑوں کو موقع دیتی ہے کہ وہ پیغمبر کے مقابلہ میں متکبرانہ نفسیات میں مبتلا ہوسکیں۔ ایسے لوگ جب کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ پیغمبر کی باتوں کو سن کر متاثر ہورہے ہیں تو وہ ان کے تاثر کو گھٹانے کے ليے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک مجنون ہے، یہ تو ایک سحر زدہ انسان ہے، وغیرہ۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر عیب لگانے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ حالاں کہ دلیل کے ذریعہ کسی کو ردکرنا عین درست ہے جب کہ عیب لگا کر کسی کو بدنام کرنا سراسر نادرست۔


Connections

  • Previous: 25_6
  • Next: 25_8
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes