Recitation
Next: 25_42
Arabic
وَإِذَا رَأَوۡكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا ٱلَّذِي بَعَثَ ٱللَّهُ رَسُولًا
Urdu
یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) “کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟
English
And when they see you, [O Muhammad], they take you not except in ridicule, [saying], “Is this the one whom Allah has sent as a messenger
Tafsir — Bayan ul Quran
’’اگر ہم جمے نہ رہتے تو وہ ہم کو ہمارے دین سے ہٹا دیتا‘‘— اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اپنے دین پر قائم رہنے کی وجہ ان کا تعصب تھا نہ کہ کوئی دلیل۔ دلیل کے میدان میں وہ بے ہتھیار ہوچکے تھے۔ مگر تعصب کے بل پر وہ اپنے آبائی دین پر جمے رہے۔ یہی اکثر انسانوں کا حال ہوتا ہے۔ بیشتر انسان محض تعصب کی زمین پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگرچہ زبان سے وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دلیل کی زمین پر کھڑے ہوئے ہیں۔ کسی دعوت کا مقابلہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے اس کو دلیل سے رد کرنا۔ دوسراہے اس کا مذاق اڑانا۔ پہلا طریقہ جائز ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز۔ جو لوگ کسی دعوت کا مذاق اڑائیں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنی بازی ہار چکے ہیں۔ اور اب مذاق اور استہزاء کی باتوں سے اپنی ہارپر پرده ڈالنا چاہتے ہوں۔