Recitation

Next: 25_22


Arabic

۞وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَوۡ نَرَىٰ رَبَّنَاۗ لَقَدِ ٱسۡتَكۡبَرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ وَعَتَوۡ عُتُوّٗا كَبِيرٗا


Urdu

جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں “کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں” بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں


English

And those who do not expect the meeting with Us say, “Why were not angels sent down to us, or [why] do we [not] see our Lord?” They have certainly become arrogant within themselves and [become] insolent with great insolence


Tafsir — Bayan ul Quran

جو لوگ داعی کے پیغام کو ماننے کے ليے فرشتے اور خدا کے ظہور کا مطالبہ کریں وہ کوئی واقعی بات نہیں کہتے۔ وہ صرف اپنی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ خدا اور فرشتوں کا ظہور کیا معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ليے بولنے کا جو موقع ہے وہ صرف اسی وقت تک ہے جب تک حق کو داعی کی سطح پر ظاہر کیا گیا ہو۔ جب حق خدا اور فرشتوں کی سطح پر ظاہر ہو جائے تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ماننے اور تصدیق کرنے کا۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ قیامت میں جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے تو میں اپنا فلاں عمل پیش کردوں گا۔ میں کہوں گا کہ فلاں اور فلاں بزرگوں کی نسبت مجھے حاصل ہے۔ مگر قیامت کے آتے ہی اس قسم کی خوش خیالیاں اس طرح بے حقیقت ثابت ہوں گی جیسے گرم لوہے پر پانی کا قطرہ پڑے اور فوراً اڑ جائے۔ اس دن صرف حقیقی عمل کسی کے کام آئے گا، نہ کہ کسی قسم کی جھوٹی خوش خیالی۔


Connections

  • Previous: 25_20
  • Next: 25_22
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes