Recitation
Next: 24_60
Arabic
وَإِذَا بَلَغَ ٱلۡأَطۡفَٰلُ مِنكُمُ ٱلۡحُلُمَ فَلۡيَسۡتَـٔۡذِنُواْ كَمَا ٱسۡتَـٔۡذَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِۦۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
Urdu
اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہے کہ اُسی طرح اجازت لیکر آیا کریں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں اِس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے
English
And when the children among you reach puberty, let them ask permission [at all times] as those before them have done. Thus does Allah make clear to you His verses; and Allah is Knowing and Wise
Tafsir — Bayan ul Quran
اوپر معاشرتی احکام بیان ہوئے تھے۔ یہ آیتیں غالباً بعد کو ان کے تتمہ یا توضیح کے طورپر نازل ہوئیں۔ مثلاً اوپر (آيت 31 )عورتوں کے ليے گھر کے اندر پردہ کی جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں یہ ہے کہ عورتیں اپنی اوڑھنی کے آنچل اپنے سینہ پر ڈال لیا کریں۔ یہاں (آیت 60) میں اس عام حکم سے ان عورتوں کو الگ کردیا گیا جو نکاح کی عمر سے گزر چکی ہوں۔ فرمایا کہ اگر وہ اوڑھنی کا اہتمام نہ کریں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ دونوں قسم کے احکام ایک ساتھ اتر سکتے تھے۔ مگر ان کے درمیان 29 آيتوں کا فاصلہ ہے۔ ان درمیانی آيات میں دوسرے مضامین ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوتاہے، ابتدائی احکام اترنے کے بعد کچھ عملی سوالات پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کی وضاحت میں یہ آخری آیتیں اتریں اور یہاں شامل کی گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا انداز ترتیب اور تدریج کا انداز ہے، نہ کہ یکبارگی اقدام کا۔ خدا کے ليے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ تمام احکام ایک ساتھ بیک وقت نازل کردے، مگر خدا نے حالات کے اعتبار سے احکام کو بتدریج نازل فرمایا۔