Recitation

Next: 24_56


Arabic

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ كَمَا ٱسۡتَخۡلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِينَهُمُ ٱلَّذِي ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ أَمۡنٗاۚ يَعۡبُدُونَنِي لَا يُشۡرِكُونَ بِي شَيۡـٔٗاۚ وَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ


Urdu

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں


English

Allah has promised those who have believed among you and done righteous deeds that He will surely grant them succession [to authority] upon the earth just as He granted it to those before them and that He will surely establish for them [therein] their religion which He has preferred for them and that He will surely substitute for them, after their fear, security, [for] they worship Me, not associating anything with Me. But whoever disbelieves after that - then those are the defiantly disobedient


Tafsir — Bayan ul Quran

یہاں جس غلبہ کا وعدہ کیاگیا ہے اس کا تعلق اولاً رسول اور اصحابِ رسول سے ہے۔ مگر تبعاً اس کا تعلق پوری امت سے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غلبہ اور اقتدار اہلِ ایمان کے عمل کا نشانہ نہیں۔ وہ ایک خدائی انعام ہے جو ایمان اور عمل کے نتیجہ میں مومنین کی جماعت کو دیا جاتا ہے۔ اس غلبہ کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان کو زمین میںاستحکام عطا کیا جائے۔ ان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ دشمنانِ حق کے اندیشوں سے مامون ہو کر رہ سکیں۔ وہ آزادانہ طورپر خدا کی عبادت کریں۔ اور صرف ایک خدا کے بندے بن کر زندگی گزاریں۔ اہل ایمان کے غلبہ کی یہ حالت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک وہ خدا کے شکر کرنے والے بنے رہیں، اور تقویٰ کی کیفیت نہ کھوئیں۔ خلیفہ کے معنی عربی زبان میں جانشین یا بعد کو آنے والے کے ہیں۔ استخلاف یا خلیفہ بنانا یہ ہے کہ ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ پر غلبہ اور استحکام عطا کیا جائے — غلبہ دراصل خدائی امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ خدا ایک کے بعد ایک، ہر قوم کو زمین میں غلبہ دیتا ہے۔ اور اس طرح اس کو جانچتا ہے۔ اہل ایمان کی جماعت کے ليے یہ غلبہ امتحان کے ساتھ ایک انعام بھی ہے۔


Connections

  • Previous: 24_54
  • Next: 24_56
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes