Recitation
Next: 24_36
Arabic
۞ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ مَثَلُ نُورِهِۦ كَمِشۡكَوٰةٖ فِيهَا مِصۡبَاحٌۖ ٱلۡمِصۡبَاحُ فِي زُجَاجَةٍۖ ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوۡكَبٞ دُرِّيّٞ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٖ مُّبَٰرَكَةٖ زَيۡتُونَةٖ لَّا شَرۡقِيَّةٖ وَلَا غَرۡبِيَّةٖ يَكَادُ زَيۡتُهَا يُضِيٓءُ وَلَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ نَارٞۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٖۚ يَهۡدِي ٱللَّهُ لِنُورِهِۦ مَن يَشَآءُۚ وَيَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَٰلَ لِلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
Urdu
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے (کائنات میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک فانوس میں ہو، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، (اِس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہو گئے ہوں) اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے، وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے
English
Allah is the Light of the heavens and the earth. The example of His light is like a niche within which is a lamp, the lamp is within glass, the glass as if it were a pearly [white] star lit from [the oil of] a blessed olive tree, neither of the east nor of the west, whose oil would almost glow even if untouched by fire. Light upon light. Allah guides to His light whom He wills. And Allah presents examples for the people, and Allah is Knowing of all things
Tafsir — Bayan ul Quran
یہ ایک مرکب تمثیل ہے۔ اس آیت میں روشنی سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔ طاق سے مراد انسان کا دل ہے اور چراغ سے مراد ایمان کی استعداد ہے۔ شیشہ اور تیل اسی استعداد کی مزید خصوصیت کو بتارہے ہیں۔شیشہ اس بات کی تعبیر ہے کہ یہ استعداد قلبِ انسانی میں اس طرح رکھی گئی ہے کہ وہ خارجی اثرات سے پوری طرح محفوظ رہے۔ اور شفاف تیل اس بات کی تعبیر ہے کہ اس کی یہ استعداد اتنی قوی ہے کہ وہ بے تاب ہورہی ہے کہ کب اس کے سامنے حق آئے اور وہ اس کو بلا تاخیر قبول کرلے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کائنات میں روشنی کا واحد ماخذ صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ اسی سے ہر ایک کوروشنی اور ہدایات ملتی ہے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کے اندر فطری طورپر حق کی طلب موجود ہے۔ یہ طلب بے حد طاقت ور ہے۔ اور اگر اس کو ضائع نہ کیا جائے تو وہ ہر آن اپنا جواب پانے کے ليے بے تاب رہتی ہے۔ باعتبار فطرت انسان کی استعدادِ قبول اتنی بڑھی ہوئی ہے گویا وہ کوئی پٹرول ہے کہ آگ اگر اس کے قریب بھی لائی جائے تو وہ فوراً بھڑک اٹھے۔ مومن وہ حقیقی انسان ہے جس نے اپنی فطری استعداد کو ضائع نہیں کیا۔ چنانچہ حق کی دعوت سامنے آتے ہی اس کی استعداد جاگ اٹھی۔ نور فطرت کے ساتھ نور ہدایت نے مل کر اس کے پورے وجود کو روشن کردیا۔