Recitation
Next: 24_22
Arabic
۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ وَمَن يَتَّبِعۡ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَإِنَّهُۥ يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۚ وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهُۥ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنۡ أَحَدٍ أَبَدٗا وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يُزَكِّي مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
Urdu
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہوسکتا مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے، اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے
English
O you who have believed, do not follow the footsteps of Satan. And whoever follows the footsteps of Satan - indeed, he enjoins immorality and wrongdoing. And if not for the favor of Allah upon you and His mercy, not one of you would have been pure, ever, but Allah purifies whom He wills, and Allah is Hearing and Knowing
Tafsir — Bayan ul Quran
شیطان کے قدموں پر چلنا یہ ہے کہ آدمی شیطانی وسوسوں کی پیروی کرنے لگے۔ ایک بے بنیاد بات پر جب کسی کے اندر بد گمانی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو یہ ایک شیطانی وسوسہ ہوتا ہے۔ اپنے مخالف کے بارے میں جب آدمی کے اندر منفی خیالات ابھرتے ہیں تو یہ بھی دراصل شیطان ہوتا ہے جو اس کے دل میں رینگتا ہے۔ ایسے جذبات اور خیالات جب کسی کے اندر پیداہوں تو اس کو چاہيے کہ وہ اندر ہی اندر ان کو کچل دے، نہ یہ کہ وہ ان کی پیروی کرنے لگے۔ ایسے احساسات کی پیروی کرنا براہ راست شیطان کی پیروی کرناہے۔ دوسروں کے خلاف طوفان اٹھانا ایک ایسا عمل ہے جو تواضع کے خلاف ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے بارے میں ضرورت سے زیادہ خوش گمان ہوتا ہے۔ اور دوسرے کے بارے میں ضرورت سے زیادہ بدگمان۔ یہ دونوں ہی باتیں ایسی ہیں جو ایمان کےساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ اگر آدمی کے اندر ایمانی تواضع پیدا ہوجائے تو وہ اپنے احتساب میں اتنا زیادہ مشغول ہوگا کہ اس کو فرصت ہی نہ ہوگی کہ وہ دوسرے کے احتساب کا جھوٹا جھنڈا اٹھائے۔