Recitation

Next: 23_84


Arabic

لَقَدۡ وُعِدۡنَا نَحۡنُ وَءَابَآؤُنَا هَٰذَا مِن قَبۡلُ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ


Urdu

ہم نے بھی یہ وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں یہ محض افسانہائے پارینہ ہیں


English

We have been promised this, we and our forefathers, before; this is not but legends of the former peoples


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان کو عقل دی گئی ہے۔ عقل کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ معاملات کی گہرائی میں داخل ہو اور اصل حقیقت کو دریافت کرکے اس کو سمجھ سکے۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ انسان حقیقی معنوں میں اپنی عقل کو استعمال کرے۔ وہ بس ظاہری تأثر کے تحت ایک رائے قائم کرلیتا ہے اور اس کو دہرانے لگتا ہے۔ ماضی کے لوگ بھی ایسا کرتے رہے اور حال کے لوگ بھی یہی کررہے ہیں۔ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا شعوری یا لفظی انکار کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو اس عقیدے کا عملی منکر کہاجاسکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو رسمی طورپر زندگی بعد موت کو مانتے ہوئے عملاً ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے کہ انھیں اس پر یقین نہ ہو کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اور جس طرح آج وہ ہوش وحواس کے ساتھ زندہ ہیں، اسی طرح دوبارہ ہوش وحواس اس کے ساتھ زندہ ہو کر خدا کے سامنے پیش ہوں گے۔


Connections

  • Previous: 23_82
  • Next: 23_84
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes