Recitation
Next: 23_72
Arabic
وَلَوِ ٱتَّبَعَ ٱلۡحَقُّ أَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهِنَّۚ بَلۡ أَتَيۡنَٰهُم بِذِكۡرِهِمۡ فَهُمۡ عَن ذِكۡرِهِم مُّعۡرِضُونَ
Urdu
اور حق اگر کہیں اِن کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا نہیں، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذکر اُن کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں
English
But if the Truth had followed their inclinations, the heavens and the earth and whoever is in them would have been ruined. Rather, We have brought them their message, but they, from their message, are turning away
Tafsir — Bayan ul Quran
حق وہ ہے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ مگر خواہش پرست انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ حق کو اس کی خواہش کے تابع کردیا جائے۔ اس قسم کے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ داعی جب حق بات کہتا ہے تو وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ وہ حق کے تابع نہیں بننا چاہتے۔ اس ليے وہ چاہنے لگتے ہیں کہ حق کو ان کے تابع کردیا جائے۔ اپنی اس نفسیات کی بنا پر وہ حق کی آواز پر دھیان نہیں دیتے۔ حق ان کو اجنبی دکھائی دیتا ہے۔ وہ داعی حق کو اس کی اصل حیثیت میں پہچان نہیں پاتے۔ اپنے کو برسر حق ظاہر کرنے کے ليے وہ داعی کو مطعون کرنے لگتے ہیں۔ کائنات میں کامل درستگی نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ہر طرف فساداور بگاڑ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام حق کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ یعنی وہی ہونا جو ہونا چاہيے، اور وہ نہ ہونا جو نہ ہونا چاہيے۔ اب اگر کائنات کا نظام بھی انسان کی خواہشوں پر چلنے لگے تو جو فساد انسانی دنیا میں ہے وہی فساد بقیہ کائنات میں بھی برپا ہوجائے گا۔ نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے ليے سب سے زیادہ تلخ چیز ہوتی ہے۔ بہت ہی کم وہ خداکے بندے ہیں جو نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ بیشتر لوگ اس کو نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں۔