Recitation

Next: 23_63


Arabic

وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ وَلَدَيۡنَا كِتَٰبٞ يَنطِقُ بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ


Urdu

ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو (ہر ایک کا حال) ٹھیک ٹھیک بتا دینے والی ہے، اور لوگوں پر ظلم بہرحال نہیں کیا جائے گا


English

And We charge no soul except [with that within] its capacity, and with Us is a record which speaks with truth; and they will not be wronged


Tafsir — Bayan ul Quran

جو شخص اللہ کو اس طرح پائے کہ اس پر اللہ کی ہیبت طاری ہوجائے وہ عام انسانوں سے بالکل مختلف انسان ہوتاہے ۔ خوف کی نفسیات اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنادیتی ہے۔ اس کی سنجیدگی اس کی ضامن بن جاتی ہے کہ وہ دلائلِ خداوندی کے وزن کو پوری طرح سمجھے اور اس کے آگے فوراً جھک جائے۔ خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں اپنا وزن کھودے۔ وہ سب کچھ کرکے بھی یہ سمجھے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ موجودہ دنیا میں دوڑ دھوپ کی دو راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ایک دنیا کی راہ اور دوسری آخرت کی راہ۔ جن لوگوں کے اندر مذکورہ صفات پائی جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی طرف دوڑنے والے ہیں۔ تاہم آخرت کی طرف دوڑنا موجودہ دنیا میں ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں انسان سے طرح طرح کی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہر آدمی سے اس کی طاقت کے بقدر ہے، نہ کہ طاقت سے زیادہ۔ ہر آدمی کی استطاعت اور اس کا کارنامہ دونوں کامل طورپر خدا کے علم میں هيں۔ اور یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ قیامت میں ہر شخص کو وہ رعایت ملے جو ازروئے انصاف اسے ملنی چاہیے۔ اور ہر شخص وہ انعام پائے جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا۔


Connections

  • Previous: 23_61
  • Next: 23_63
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes