Recitation

Next: 23_61


Arabic

وَٱلَّذِينَ يُؤۡتُونَ مَآ ءَاتَواْ وَّقُلُوبُهُمۡ وَجِلَةٌ أَنَّهُمۡ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ رَٰجِعُونَ


Urdu

اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے


English

And they who give what they give while their hearts are fearful because they will be returning to their Lord


Tafsir — Bayan ul Quran

جو شخص اللہ کو اس طرح پائے کہ اس پر اللہ کی ہیبت طاری ہوجائے وہ عام انسانوں سے بالکل مختلف انسان ہوتاہے ۔ خوف کی نفسیات اس کو انتہائی حد تک سنجیدہ بنادیتی ہے۔ اس کی سنجیدگی اس کی ضامن بن جاتی ہے کہ وہ دلائلِ خداوندی کے وزن کو پوری طرح سمجھے اور اس کے آگے فوراً جھک جائے۔ خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں اپنا وزن کھودے۔ وہ سب کچھ کرکے بھی یہ سمجھے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ موجودہ دنیا میں دوڑ دھوپ کی دو راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ ایک دنیا کی راہ اور دوسری آخرت کی راہ۔ جن لوگوں کے اندر مذکورہ صفات پائی جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی طرف دوڑنے والے ہیں۔ تاہم آخرت کی طرف دوڑنا موجودہ دنیا میں ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں انسان سے طرح طرح کی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہر آدمی سے اس کی طاقت کے بقدر ہے، نہ کہ طاقت سے زیادہ۔ ہر آدمی کی استطاعت اور اس کا کارنامہ دونوں کامل طورپر خدا کے علم میں هيں۔ اور یہی واقعہ اس بات کی ضمانت ہے کہ قیامت میں ہر شخص کو وہ رعایت ملے جو ازروئے انصاف اسے ملنی چاہیے۔ اور ہر شخص وہ انعام پائے جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا۔


Connections

  • Previous: 23_59
  • Next: 23_61
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes