Recitation

Next: 23_45


Arabic

ثُمَّ أَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا تَتۡرَاۖ كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةٗ رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُۖ فَأَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُم بَعۡضٗا وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَحَادِيثَۚ فَبُعۡدٗا لِّقَوۡمٖ لَّا يُؤۡمِنُونَ


Urdu

پھر ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا، اس نے اُسے جھٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے حتیٰ کہ ان کو بس افسانہ ہی بنا کر چھوڑا پھٹکار اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے


English

Then We sent Our messengers in succession. Every time there came to a nation its messenger, they denied him, so We made them follow one another [to destruction], and We made them narrations. So away with a people who do not believe


Tafsir — Bayan ul Quran

پیغمبروں کے بعد ہمیشہ ان کی امتوں میں بگاڑ آتا رہا۔ ان کی اصلاح کے ليے بار بار پیغمبر بھیجے گئے — امت آدم میں حضرت نوح آئے۔ اس کے بعد امت نوح (عاد) میں حضرت ہود آئے۔ پھر امت ہود (ثمود) حضرت صالح آئے، وغیرہ۔ مگر ہر بار یہ ہوا کہ وہی لوگ جو ماضی کے پیغمبر کو بلا بحث مانے ہوئے تھے وہ حال کے پیغمبر کو کسی طرح ماننے پر تیار نہ ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کا پیغمبر طویل روایات کے نتیجے میں قومی فخر کا نشان بن جاتا ہے۔ وہ قوموں کے ليے ان کی قومی تشخص کی علامت ہوتا ہے۔ وہ ان کے ليے قومی ہیرو کا درجہ اختیار کرلیتا ہے۔ اس کو مان کر آدمی کے احساس برتری کو تسکین ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے پیغمبر کو کون نہیں مانے گا۔ مگر حال کے پیغمبر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتاہے۔ حال کے پیغمبر کے ساتھ اس کی تاریخ وابستہ نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ عظمت اور تقدس کی روایت شامل نہیں ہوتی۔ اس کو ماننا صرف ایک معنوی حقیقت کے اعتراف کے ہم معنی ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہمالیائی عظمت سے اپنے آپ کو وابستہ کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے پیغمبروں کو ماننے والے ہمیشہ حال کے پیغمبر کا انکار کرتے رہے۔ ’’دور ہوں جو ایمان نہیں لاتے‘‘— اس کو لفظ بدل کر کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دور ہوں وہ لوگ جو خدا کے سفیر کو خدا کے سفیر کی حیثیت سے نہیں پہچان پاتے۔ وہ خدا کے سفیر کو صرف اسی وقت پہچانتے ہیں جب کہ تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ ان کا قومی ہیرو بن چکا ہو۔


Connections

  • Previous: 23_43
  • Next: 23_45
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes