Recitation
Next: 23_42
Arabic
فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّيۡحَةُ بِٱلۡحَقِّ فَجَعَلۡنَٰهُمۡ غُثَآءٗۚ فَبُعۡدٗا لِّلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Urdu
آخرکار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آ لیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا دُور ہو ظالم قوم
English
So the shriek seized them in truth, and We made them as [plant] stubble. Then away with the wrongdoing people
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کا پیغمبر جس چیز کے اعلان کے ليے آتا ہے وہ اس کائنات کی سب سے سنگین حقیقت ہے۔ مگر پیغمبر اس حقیقت کو صرف دلیل کے روپ میں ظاہر کرتاہے۔ وہی لوگ دراصل مومن ہیں جو اس کو دلیل کے روپ میں پہچانیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالہ کردیں۔ جب کوئی گروہ آخری طورپر یہ ثابت کردے کہ وہ حقیقت کو دلیل کے روپ میں پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر خدا حقیقت کو ’’صَیْحَه‘‘ کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ حقیقت ایک ایسی چنگھاڑ بن جاتی ہے جس کا سامنا کرنے کی طاقت کسی کو نہ ہو۔ مگر جب حقیقت صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہو جائے تو یہ اس کو بھگتنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ اس کو ماننے کا۔ حقیقت جب صَیْحَهکے روپ میں ظاہر ہوتی ہے تو آدمی کے حصہ میں صرف یہ رہ جاتا ہے کہ وہ ابد تک اپنی اس نادانی پر پچھتاتا رہے کہ اس نے حقیقت کو دیکھا مگر وہ اس کی طرف سے اندھا بنا رہا۔ حقیقت کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی مگر اس نے اس کو سننے کے ليے اپنے کان بند کرلئے۔