Recitation

Next: 23_37


Arabic

۞هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ


Urdu

بعید، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جا رہا ہے


English

How far, how far, is that which you are promised


Tafsir — Bayan ul Quran

اس آیت میں آخرت کے بارے میں جو کلمات نقل کيے گئے ہیں وہ کبھی زبان حال سے ادا ہوتے ہیں اور کبھی زبان قال سے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ہمہ تن بس دنیا کی چیزوں میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ آخرت سے اس طرح غافل نظر آتا ہے جیسے کے آخرت اس کے نزدیک بالکل بعید از قیاس بات ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی آخرت سے غفلت اس کو سرکشی کی اس حدتک پہنچا دیتی ہے کہ وہ اپنی زبان سے بھی کہہ دیتا ہے کہ آخرت تو بہت بعید از قیاس چیز ہے۔ اس ليے آج جو کچھ مل رہا ہے اس کو حاصل کرو، کل کے موہوم فائدہ کی خاطر آج کے یقینی فائدہ کو نہ کھوؤ۔ ’’اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے‘‘— اس کلمہ کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی عین اسی جملہ کو اپنی زبان سے ادا کرے۔ د وسرے یہ کہ وہ داعیٔ حق کو اس طرح نظر انداز کرے جیسے کہ اس کی بات محض ایک سرپھرے شخص کی بات ہے۔ اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔


Connections

  • Previous: 23_35
  • Next: 23_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes