Recitation

Next: 22_66


Arabic

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦ وَيُمۡسِكُ ٱلسَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ


Urdu

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے، اور اسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے کہ اس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا؟ واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے


English

Do you not see that Allah has subjected to you whatever is on the earth and the ships which run through the sea by His command? And He restrains the sky from falling upon the earth, unless by His permission. Indeed Allah, to the people, is Kind and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran

زمین کی تمام چیزیں ایک خاص توازن کو مسلسل اپنے اندر قائم رکھتی ہیں۔ اگر ان کا توازن بگڑ جائے تو چیزیں مفید بننے کے بجائے ہمارے ليے سخت مضر بن جائیں۔ پانی میں دھات کا ایک ٹکڑا ڈالیں تو وہ فوراً ڈوب جائے گا مگر پانی کو خدا نے ایک خاص قانون کا پابند بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتاہے کہ لوہے یا لکڑی کو کشتی کی صورت دے دی جائے تو وہ پانی میں نہیں ڈوبتی۔ خلا میں بے شمار کُرے ہیں۔ ان کو بظاہر گر پڑنا چاہيے۔ مگر وہ خاص قانون کے تحت نہایت صحت کے ساتھ اپنے مدار پر تھمے ہوئے ہیں۔ انسان نے اپنے آپ کو خود نہیں بنایا۔ اس کو خدا نے پیدا کیا ہے۔ پھر اس کو ایک ایسی دنیا میں رکھا جو اس کے ليے سراپا رحمت ہے۔ مگر آزادی پاکر انسان ایسا سرکش ہوگیا کہ وہ اپنے سب سے بڑے محسن کے احسان کا اعتراف نہیں کرتا۔


Connections

  • Previous: 22_64
  • Next: 22_66
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes