Recitation

Next: 22_56


Arabic

وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي مِرۡيَةٖ مِّنۡهُ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةً أَوۡ يَأۡتِيَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَقِيمٍ


Urdu

انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آ جائے، یا ایک منحوس دن کا عذاب نازل ہو جائے


English

But those who disbelieve will not cease to be in doubt of it until the Hour comes upon them unexpectedly or there comes to them the punishment of a barren Day


Tafsir — Bayan ul Quran

پیغمبر کی دعوت میں دلیل کی عظمت پوری طرح موجود ہوتی ہے۔ مگر وہ لوگ جو صرف ظاہری عظمتوں کو جانتے ہیں وہ پیغمبر کی معنوی عظمت کو دیکھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کردیتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ شک و شبہ میں پڑے رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ حق کو ظاہری عظمتوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ حق کو مجرد روپ میں لوگوں کے سامنے لائے تاکہ جو لوگ حقیقت شناس ہیں وہ اس کو پہچان کر اس سے وابستہ ہوجائیں۔ اور جو ظاہر پرست ہیں وہ اس کو نظر انداز کرکے اپنا مجرم ہونا ثابت کریں۔ ’’آیتوں کو جھٹلانا‘‘ یہ ہے کہ آدمی دلیل کی سطح پر ظاہرہونے والے حق کو نظر انداز کردے۔ وہ اس صداقت کو ماننے کے ليے تیار نہ ہو جو مجرد روپ میں اس کے سامنے ظاہر ہوئی ہے۔


Connections

  • Previous: 22_54
  • Next: 22_56
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes