Recitation

Next: 22_6


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمۡ فِي رَيۡبٖ مِّنَ ٱلۡبَعۡثِ فَإِنَّا خَلَقۡنَٰكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٖ ثُمَّ مِن مُّضۡغَةٖ مُّخَلَّقَةٖ وَغَيۡرِ مُخَلَّقَةٖ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡۚ وَنُقِرُّ فِي ٱلۡأَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلٗا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوٓاْ أَشُدَّكُمۡۖ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرۡذَلِ ٱلۡعُمُرِ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢ بَعۡدِ عِلۡمٖ شَيۡـٔٗاۚ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ هَامِدَةٗ فَإِذَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهَا ٱلۡمَآءَ ٱهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَأَنۢبَتَتۡ مِن كُلِّ زَوۡجِۭ بَهِيجٖ


Urdu

لوگو، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی (یہ ہم اس لیے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کر دیں ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچّے کی صورت میں نکال لاتے ہیں (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی پُوری جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دی


English

O People, if you should be in doubt about the Resurrection, then [consider that] indeed, We created you from dust, then from a sperm-drop, then from a clinging clot, and then from a lump of flesh, formed and unformed - that We may show you. And We settle in the wombs whom We will for a specified term, then We bring you out as a child, and then [We develop you] that you may reach your [time of] maturity. And among you is he who is taken in [early] death, and among you is he who is returned to the most decrepit [old] age so that he knows, after [once having] knowledge, nothing. And you see the earth barren, but when We send down upon it rain, it quivers and swells and grows [something] of every beautiful kind


Tafsir — Bayan ul Quran

آخرت کی زندگی کے بارے میں آدمی کو اس ليے شبہ ہوتا ہے کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ جب انسان مرچکا ہوگا تو وہ کس طرح دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا ہو جائے گا۔ مردہ کائنات دوبارہ زندہ کائنات کیسے بن جائے گی۔ اس شبہ کا جواب خود ہماری موجودہ دنیا کی ساخت میں موجودہے۔ موجوده دنیا کیا ہے۔ یہ ایک حالت کا دوسری حالت میں تبدیل ہوجانا ہے۔ وہ چیز جس کو ہم زندہ وجود کہتے ہیں وہ حقیقۃً غیرزندہ وجود کا تغیر ہے۔ انسانی جسم کا تجزیہ بتاتا ہے کہ وہ لوہا، کاربن، کیلشیم، نمکیات، پانی اور گیسوں وغیرہ سے مل کر بنا ہے۔ انسانی وجود کے یہ مرکبات سب کے سب بے جان ہیں۔ مگر یہی غیر ذی روح مادے تبدیل ہو کر ذی روح اشیاء کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ اور انسان کی صورت میں چلنے لگتے ہیں۔ پھر جو انسان ایک بار غیر زندہ سے زندہ صورت اختیار کرلیتا ہے وہ اگر دوبارہ غیر زندہ سے زندہ ہیئت میں تبدیل ہوجائے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ اسی طرح زمین کے سبزہ کو دیکھيے۔ مٹی یا دوسری جن چیزوں سے ترکیب پاکرسبزہ بنتا ہے وہ سب کی سب ابتداء ً ان خصوصیات سے خالی ہوتی ہیں جن کے مجموعہ کا نام سبزہ ہے۔ مگر یہی غیر سبزہ تبدیل ہو کر سبزہ بن جاتا ہے۔ تبدیلی کا یہ واقعہ روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہاہے۔ پھر اسی ہونے والے واقعے کا دوسری بار ہونا مستبعد کیوں ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی دنیا کا وجود میں آنا خود ہی دوسری دنیا کے وجود میں آنے کا ثبوت ہے۔ ایک دنیا کا تجربہ کرنے کے بعد دوسری دنیا کو سمجھنا عقلی اور منطقی طورپر کچھ بھی مشکل نہیں۔


Connections

  • Previous: 22_4
  • Next: 22_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes