Recitation
Next: 22_38
Arabic
لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقۡوَىٰ مِنكُمۡۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمۡ لِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
Urdu
نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے نیکو کار لوگوں کو
English
Their meat will not reach Allah, nor will their blood, but what reaches Him is piety from you. Thus have We subjected them to you that you may glorify Allah for that [to] which He has guided you; and give good tidings to the doers of good
Tafsir — Bayan ul Quran
دنیا میںاگر اونٹ اور دوسرے مویشی نہ ہوتے، صرف شیر اور ریچھ اور بھیڑيے ہوتے تو ان سے خدمت لینا انسان کے ليے بہت مشکل ہوتا۔ اور ان کو عمومی پیمانہ پر قربان کرنا تو بالکل ناممکن ہوجاتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے صرف وحشی اور درندہ جانور نہیں پیدا كيے۔ بلکہ کچھ ایسے جانور بھی پیدا کيے جن میں فطری طورپریہ مزاج موجود ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان کے قابو میں دے دیتے ہیں۔ اور جب انسان ان کو غذا یا قربانی کے ليے ذبح کرتا ہے تو اس وقت ان کی تسخیری فطرت اپنی آخری حد پر پہنچ جاتی ہے۔ قربانی کا طریقہ اس ليے مقرر نہیں کیا گیا ہے کہ خدا کو گوشت اور خون کی ضرورت ہے۔ قربانی تو صرف ایک علامتی فعل ہے۔ جانور کی قربانی اس انسان کی ایک ظاہری تصویر ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے ليے ذبح کرچکا ہے۔ یہ دراصل خود اپنا ذبیحہ ہے جو جانور کے ذبیحہ کی صورت میں ممثل ہوتاہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے لیے جانور کی قربانی خود اپنی قربانی کے ہم معنی بن جائے۔