Recitation

Next: 22_35


Arabic

وَلِكُلِّ أُمَّةٖ جَعَلۡنَا مَنسَكٗا لِّيَذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلۡأَنۡعَٰمِۗ فَإِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَلَهُۥٓ أَسۡلِمُواْۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُخۡبِتِينَ


Urdu

ہر امّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ (اُس امّت کے لوگ) اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے اُن کو بخشے ہیں (اِن مختلف طریقوں کے اندر مقصد ایک ہی ہے) پس تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اور اُسی کے تم مطیع فرمان بنو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے عاجزانہ رَوش اختیار کرنے والوں کو


English

And for all religion We have appointed a rite [of sacrifice] that they may mention the name of Allah over what He has provided for them of [sacrificial] animals. For your god is one God, so to Him submit. And, [O Muhammad], give good tidings to the humble [before their Lord]


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان اس دنیا میں جو بھی پیداوار حاصل کرتا ہے، خواہ وہ زرعی پیدا وار ہو یا حیوانی پیداوار یا صنعتی پیداوار، ان کے بارے میں اس کے اندر دو قسم کی ممکن نفسیات پیدا ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ یہ میری اپنی کمائی ہے یا یہ کہ وہ معبودوں کی برکت کا نتیجہ ہے۔ یہ نفسیات سراسر مشرکانہ نفسیات ہے۔ دوسری نفسیات یہ ہے کہ آدمی جو کچھ حاصل کرے اس کو وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھے۔ عُشر اور زکوٰۃ اور قربانی اسی دوسرے جذبے کے خارجی اظہار کے مقرره طریقے ہیں۔ آدمی اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں نذر کرتا ہے اور اس طرح وہ اس بات کا عملی اقرار کرتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا عطیہ ہے، نہ کہ محض اس کا اپنا کسب۔ انسان کو اگر صحیح معنوں میں خدا کی معرفت حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اس کے دل کا جو حال ہوگا وہ وہی ہوگا جس کو یہاں اِخبات کہاگیا ہے۔ ایسا آدمی ہمہ تن خدا کی طرف متوجہ ہوجائے گا۔ اس پر عجز کی کیفیت طاری ہوجائے گی۔ اللہ کے تصور سے اس کا دل دہل ا ٹھے گا۔ وہ اپنی ہر چیز کوخدا کی چیز سمجھنے لگے گا، نہ کہ اپنی ذاتی چیز۔


Connections

  • Previous: 22_33
  • Next: 22_35
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes