Recitation
Next: 21_96
Arabic
وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآ أَنَّهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ
Urdu
اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا ہو وہ پھر پلٹ سکے
English
And there is prohibition upon [the people of] a city which We have destroyed that they will [ever] return
Tafsir — Bayan ul Quran
کسی بستی کے لیے ایمان میں داخلہ حرام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے قبولِ ایمان کی استعداد ختم ہوجائے۔ جب حق واضح دلائل کے ساتھ سامنے آتا ہے تو آدمی اپنی عین فطرت کے تحت مجبور ہوتا ہے کہ وہ اس کو پہچانے۔ اب جو لوگ اس پہچان کے بعد حق کا اعتراف کرلیں وہ اپنی فطرت کو باقی رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ دوسری چیزوں کو اہمیت دینے کی بنا پر اس کا اعتراف نہ کریں وہ گویا اپنی فطرت پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ حق کا انکار ہمیشہ اپني فطرت کو اندھا بنانے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی فطرت کو اندھا بنانے کا خطرہ مول لیں ان کا انجام یہی ہے کہ ان کے لیے ایمان میں داخل ہونا بالکل ناممکن ہوجائے۔ جو لوگ دلائل کی زبان میں حق کو نہ پہچانیں وہ حق کو صرف اس وقت پہچانیں گے جب کہ قیامت ان کی آنکھ کا پردہ پھاڑ دے گی۔ مگر اس وقت کا پہچاننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ ماننے کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ ماننے کا۔