Recitation

Next: 21_88


Arabic

وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَٰضِبٗا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ فَنَادَىٰ فِي ٱلظُّلُمَٰتِ أَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ


Urdu

اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے آخر کو اُس نے تاریکیوں میں پکارا “نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا


English

And [mention] the man of the fish, when he went off in anger and thought that We would not decree [anything] upon him. And he called out within the darknesses, “There is no deity except You; exalted are You. Indeed, I have been of the wrongdoers


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت یونس ، عراق کے ایک قدیم شہر نینویٰ کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے۔ اس وقت نینویٰ کی آبادی ایک لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔ انھوںنے ایک عرصہ تک قوم کو توحید اور آخرت کی طرف بلایا۔ مگر وہ لوگ ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ پیغمبروں کے بارے میں خدا کی سنت یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد اگر قوم بدستور پیغمبر کی منکر بنی رہے تو پیغمبر کو بستی چھوڑنے کا حکم ہوتاہے اور قوم پر عذاب آجاتا ہے۔ حضرت یونس نے خیال کیا کہ وہ وقت آگیا ہے۔ اور خدا کی طرف سے ہجرت کا حکم ملے بغیر قوم کو چھوڑکر چلے گئے۔ شہر سے نکل کر وہ ساحل سمندر پر آئے اور ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ راستے میں کشتی ڈوبنے لگی۔ لوگوں نے سمجھا کہ کوئی غلام اپنے مالک سے بھاگا ہے۔ قدیم رواج کے مطابق اس کا حل یہ تھا کہ اس غلام کو معلوم کرکے اسے دریا میں پھینک دیاجائے۔ قرعہ نکالا گیا تو حضرت یونس کا نام قرعہ میں نکلا۔ چنانچہ انھوں نے آپ کو دریا میں پھینک دیا۔ عین اسی وقت ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ مچھلی آپ کو اپنے پیٹ میں ليے رہی اور پھر خدا کے حکم سے آپ کو لاکر ساحل پر ڈال دیا۔ آپ تندرست ہو کر دوبارہ اپنی قوم میں واپس آئے۔ ایک پیغمبر نے دعوت کے محاذ کو صرف تکمیل سے پہلے چھوڑ دیا تو ان کے ساتھ یہ قصہ پیش آیا۔ پھر ان وارثینِ پیغمبر کا کیا انجام ہوگا جو دعوت کے محاذ کو یکسر چھوڑ ے ہوئے ہوں۔


Connections

  • Previous: 21_86
  • Next: 21_88
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes