Recitation
Next: 21_62
Arabic
قَالُواْ فَأۡتُواْ بِهِۦ عَلَىٰٓ أَعۡيُنِ ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُونَ
Urdu
انہوں نے کہا “تو پکڑ لاؤ اُسے سب کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں (اُس کی کیسی خبر لی جاتی ہے)
English
They said, “Then bring him before the eyes of the people that they may testify
Tafsir — Bayan ul Quran
اگلے دن جب لوگ بت خانہ میں گئے اور دیکھا کہ وہاں کے بت ٹوٹے پڑے ہیں تو ان کو سخت دھکا لگا۔ بالآخر ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ اس نوجوان کا قصہ معلوم ہوتاہے جو ہمارے آبائی دین سے منحرف ہے اور اس کے خلاف بولتا رہتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑتے ہوئے بالقصد سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا تھا۔ اب جب وہ بلائے گئے اور ان سے باز پرس ہوئی تو انھوں نے کہا کہ یہ بڑا بت صحیح وسالم موجود ہے۔ اس سے پوچھ لو۔ اگر وہ واقعی معبود ہے تو بول کر تمھیں بتائے گا کہ یہ قصہ ان بتوں کے ساتھ کیسے پیش آیا۔ حضرت ابراہیم نے براہِ راست طور پر کوئی بات نہیں کہی۔ مگر بالواسطہ طورپر انھوں نے وہ بات کہہ دی جو اس موقع پر براہِ راست کلام سے بھی زیادہ مؤثر تھی۔