Recitation
Next: 21_41
Arabic
بَلۡ تَأۡتِيهِم بَغۡتَةٗ فَتَبۡهَتُهُمۡ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ
Urdu
وہ بلا اچانک آئے گی اور اِنہیں اِس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کر سکیں گے اور نہ اِن کو لمحہ بھر مُہلت ہی مل سکے گی
English
Rather, it will come to them unexpectedly and bewilder them, and they will not be able to repel it, nor will they be reprieved
Tafsir — Bayan ul Quran
عرب کے لوگ آخرت کے منکر نہ تھے۔ وہ آخرت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی خبر انھیں ان کی قوم کا ایک شخص ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ دے رہا تھا۔ انھیں فخر تھا کہ وہ ایک ایسے دین پر ہیں جو ان کی کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس یقین کی تردید کی تو وہ بگڑ گئے۔ وہ اپنی بے خوف نفسیات کی بناپر یہ کہنے لگے کہ وہ عذاب ہمیں دکھاؤ جس کی تم ہم کو دھمکی دے رہے ہو۔ فرمایا کہ ان کی یہ جلد بازی صرف اس ليے ہے کہ ابھی امتحان کے دور میں ہونے کی وجہ سے وہ عذاب سے دور کھڑے ہوئے ہیں۔ جس دن یہ مہلت ختم ہوگی اور خدا کا عذاب انھیں گھیر لے گا، اس وقت ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ رسول کی دعوت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو کر انھوں نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔