Recitation

Next: 20_17


Arabic

فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنۡهَا مَن لَّا يُؤۡمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرۡدَىٰ


Urdu

پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا


English

So do not let one avert you from it who does not believe in it and follows his desire, for you [then] would perish


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت موسیٰ کو جو آگ نظر آئی وہ عام قسم کی آگ نہ تھی بلکہ خدا کی تجلی تھی۔چنانچہ جب وہ وہاں پہنچے تو انھیں احساس دلایا گیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ ان کو تواضع کے ساتھ پوری طرح متوجہ ہونے کے لیے جوتا اتارنے کا حکم ہوا۔ پھر آواز آئی کہ اس وقت تم خدا سے ہم کلام ہو اور خدا نے تم کو اپنی پیغمبری کے لیے چنا ہے۔ اس وقت حضرت موسیٰ کو جو تعلیم دی گئی وہ وہی تھی جو تمام پیغمبروں کو ہمیشہ تعلیم کی گئی ہے۔ یعنی ایک خدا کو معبود بنانا۔ اسی کی عبادت کرنا۔ اسی کو ہر موقع پر یاد رکھنا۔ پھر حضرت موسیٰ کو زندگی کی اس حقیقت کی خبر دی گئی کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ ایک خاص مدت تک کے لیے خدا نے حقیقتوں کو غیب میں چھپا دیا ہے۔ قیامت میں یہ پردہ پھٹ جائے گا۔ اس کے بعد انسانی زندگی کا اگلا دور شروع ہوگا جس میں ہر آدمی اس عمل کے مطابق مقام پائے گا جو اس نے موجودہ دنیا میں کیا تھا۔ جب ایک آدمی پر خواہشوں کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ آخرت سے بے پروا ہو کر دنیا کے راستوں میںچل پڑتا ہے تو وہ اپنے اس فعل کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے نظریات وضع کرتا ہے۔ وہ اپنی روش کو خوب صورت الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ اس کو سن کر دوسرے لوگ بھی آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ ایسی حالت میں مومن کو اپنے بارے میں سخت چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ وہ خدا سے غافل اور آخرت فراموش لوگوں کو دیکھ کر ان سے متاثر ہوجائے۔ یا ان کی خوب صورت باتوں کے فریب میں آکر آخرت پسندانہ زندگی کو کھو بیٹھے۔


Connections

  • Previous: 20_15
  • Next: 20_17
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes