Recitation
Next: 20_133
Arabic
وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ لَا نَسۡـَٔلُكَ رِزۡقٗاۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكَۗ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلتَّقۡوَىٰ
Urdu
اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے
English
And enjoin prayer upon your family [and people] and be steadfast therein. We ask you not for provision; We provide for you, and the [best] outcome is for [those of] righteousness
Tafsir — Bayan ul Quran
ان آیات کا خطاب اگر چہ بظاہر پیغمبر سے ہے مگر اس کے مخاطب تمام اہلِ ایمان ہیں۔ دنیا میں ایک شخص ایمان اور دعوت کی زندگی اختیار کرتاہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی زندگی مشقتوں کی زندگی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ حال ہے کہ جو لوگ اس قسم کی ذمہ داریوں سے آزاد ہیں وہ آرام اور راحت میں اپنے صبح وشام گزاررہے ہیں۔ اس صورت حال کو نمایاں کرکے شیطان آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ مومن اور داعی کو متزلزل کرنے کی کوشش کرتاہے۔ لیکن گہرائی سے دیکھا جائے تو اس ظاہری فرق کے آگے ایک اور فرق ہے اور وہ فرق زیادہ قابل لحاظ ہے۔وہ فرق یہ کہ دنیا پرست لوگوں کو جو چیز ملی ہے وہ محض امتحان کے لیے ہے اور سراسر وقتی ہے۔ اس کے بعد ابدی زندگی میں ان کے لیے کچھ نہیں۔ دوسری طرف مومن اور داعی کو خدا سے وابستگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں جو چیز ملی ہے وہ تمام دنیا کی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ ہے — اللہ کی یاد، آخرت کی فکر، عبادت اور تقویٰ کی زندگی، خدا کے بندوں کو آخرت کی پکڑ سے بچانے کے لیے فکر مند ہونا۔ یہ بھی رزق ہے۔ اور یہ زیادہ اعلیٰ رزق ہے کیوں کہ وہ آخرت میںایسی بے حساب نعمتوں کی شکل میں آدمی کی طرف لوٹے گا جوکبھی ختم ہونے والی نہیں۔