Recitation
Next: 20_117
Arabic
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ
Urdu
یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا
English
And [mention] when We said to the angels, “Prostrate to Adam,” and they prostrated, except Iblees; he refused
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کے حکم پر قائم رہنے کے لیے مضبوط ارادہ انتہائی طورپر ضروری ہے۔ آدمی اگر غیر متعلق چیزوں سے متاثر ہو جایا کرے تو وہ یقیناً خدا کے راستے سے ہٹ جائے گا۔ خدا کے راستہ پر قائم رہنے کے لیے صرف خداکے حکم کو جاننا کافی نہیں، بلکہ یہ عزم بھی لازمی طورپر ضروری ہے کہ آدمی حکم خداوندی کے خلاف باتوں سے مزاحمت کرے اور ان کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دے۔ خدا نے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو فرشتے فوراً سجدہ میں گر گئے۔ مگر شیطان نے سجدہ نہیں کیا۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرشتوں نے اس معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھا۔اس کے برعکس، ابلیس نے اس کو انسان کا معاملہ سمجھا ۔جب معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھا جائے تو آدمی کے لیے ایک ہی ممکن صورت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ وہ اس کی اطاعت کرے۔ مگر جب معاملہ کو انسان کا معاملہ سمجھ لیا جائے تو آدمی یہ کرے گا کہ وہ سامنے کے انسان کو دیکھے گا۔ اگر وہ اس سے طاقت ور ہے تو وہ جھک جائے گا۔ اور اگر وہ اس سے طاقت ور نہیں ہے تو وہ جھکنے سے انکار کردے گا، خواہ حق کا واضح تقاضا یہی ہو کہ وہ اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے۔