Recitation

Next: 2_84


Arabic

وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ لَا تَعۡبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَانٗا وَذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَقُولُواْ لِلنَّاسِ حُسۡنٗا وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنكُمۡ وَأَنتُم مُّعۡرِضُونَ


Urdu

یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا، مگر تھوڑے آدمیوں کے سو ا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھر ے ہوئے ہو


English

And [recall] when We took the covenant from the Children of Israel, [enjoining upon them], “Do not worship except Allah; and to parents do good and to relatives, orphans, and the needy. And speak to people good [words] and establish prayer and give zakah.” Then you turned away, except a few of you, and you were refusing


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان کے اوپر اللہ کا پہلا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کا عبادت گزار بنے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ دوسرا حق بندوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ اس حسن سلوک کا آغاز اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اور پھر رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے گزر کر ان تمام انسانوں تک پہنچ جاتا ہے جن سے عملی زندگی میںسابقہ پیش آئے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان جب بھی کوئی معاملہ پڑے تو وہاں ایک ہی برتاؤ اپنے بھائی کے ساتھ درست ہے۔ اور وہ وہی ہے جو انصاف اور خیر خواہی کے مطابق ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کا اصل امتحان ’’یتیموں اور مسکینوں‘‘ بالفاظ دیگر، کمزور افراد کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیوں کہ جو طاقت ور ہے اس کا طاقت ور ہونا خود اس بات کی ضمانت ہے کہ لوگ اس کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ مگر کمزور آدمی کے ساتھ حسن سلوک کے لیے اس قسم کا کوئی اضافی محرک نہیں۔ اس لیے سب سے زیادہ حسن سلوک جہاں مطلوب ہے وہ کمزور لوگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں ہر چیز کی نفی ہوجاتی ہے وہاں خداہوتا ہے۔ ایسے آدمی کے ساتھ وہی شخص حسن سلوک کرے گا جو فی الواقع اللہ کی خوشنودی کے لیے ایسا کررہا ہو۔ کیوں کہ وہاں کوئی دوسرا محرک موجود ہی نہیں۔ جب معاملہ کمزور آدمی سے ہوتو مختلف وجوہ سے حسن سلوک کا شعور دَب جاتا ہے۔ کمزور آدمی کو مدد دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پانے والے کے مقابلہ میں دینے والا اپنے کو اونچا سمجھنے لگتا ہے۔ یہ نفسیات کمزورآدمی کی عزت نفس کو ملحوظ رکھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ کمزور کی طرف سے متوقع نیاز مندی کا اظہار نہ ہو تو فوراً اس کو نااہل سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کا اظہار مختلف تکلیف دہ صورتوں میں ہوتا رہتا ہے، ایک دو بار مدد کرنے کے بعد یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ شخص مستقل طورپر میرے سر نہ ہوجائے، اس لیے اس سے چھٹی لینے کی خاطر اس کے ساتھ غیر شریفانہ اندازاختیار کیا جاتا ہے، وغیرہ۔ بھلی بات بولنا تمام اعمال کا خلاصہ ہے۔ ایک حقیقی خیر خواہی کا کلمہ کہنا آدمی کے لیے ہمیشہ سب سے زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ آدمی اچھی اچھی تقریریں کرتا ہے۔ مگر جب ایک اچھی بات کسی دوسرے کے اعتراف کے ہم معنی ہو تو آدمی ایسی اچھی بات منھ سے نکالنے کے لیے سب سے زیادہ بخیل ہوتا ہے۔ سامنے کا آدمی اگر بے زور ہے تو اس کے لیے شرافت کے الفاظ بولنا بھی وہ ضروری نہیں سمجھتا۔ اگر کسی سے شکایت یا برہمی پیدا ہوجائے تو آدمی سمجھ لیتا ہے کہ وہ انصاف کے ہر خدائی حکم سے اس کو مستثنیٰ کرنے میں حق بجانب ہے۔


Connections

  • Previous: 2_82
  • Next: 2_84
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes