Recitation

Next: 2_50


Arabic

وَإِذۡ نَجَّيۡنَٰكُم مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَسُومُونَكُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُونَ نِسَآءَكُمۡۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَظِيمٞ


Urdu

یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی


English

And [recall] when We saved your forefathers from the people of Pharaoh, who afflicted you with the worst torment, slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord


Tafsir — Bayan ul Quran

بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا پر فضیلت دی تھی۔ یعنی ان کو اپنے اس خاص کام کے لیے چنا تھا کہ ان کے پاس اپنی وحی بھیجے اور ان کے ذریعہ دوسری قوموں کو اپنی مرضی سے باخبر کرے۔ پھر اس منصب کی نسبت سے ان کو اور بہت سی نعمتیں اور سہولتیں دی گئیں ۔ اپنے دشمنوں پر غلبہ، وقتی لغزشوں سے در گزر، غیر معمولی حالات میں غیر معمولی نصرت اور ’’خداوند کی طرف سے ان کے لیے روٹی کا انتظام‘‘ وغیرہ۔ اس سے ان کی بعد کی نسلیں اس غلط فہمی میں پڑ گئیں کہ ہم اللہ کی خاص امت ہیں ۔ ہم ہر حال میں آخرت کی کامیابی حاصل کریں گے۔ مگر خدا کے اس قسم کے معاملات کسی کے لیے موروثي نہیں ہوتے۔ کسی گروہ کے اگلے لوگوں کا فیصلہ ان کے پچھلے لوگوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر فرد کا الگ الگ ہوتا ہے۔ خدا کے انصاف کا دن اتنا سخت ہوگا کہ وہاں اپنے عمل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز کسی کے کام آنے والی نہیں ۔ سچی دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی کومعبود نہ بنائے۔ اللہ کو دیکھے بغیر اللہ پر یقین کرے۔ آخرت کے حساب سے ڈر کر زندگی گزارے۔ پاک روزی سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ جن لوگوں پر اس کو اختیار حاصل ہے ان کو جرم کرنے سے روک دے۔


Connections

  • Previous: 2_48
  • Next: 2_50
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes