Recitation

Next: 2_266


Arabic

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثۡبِيتٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةِۭ بِرَبۡوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٞ فَـَٔاتَتۡ أُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ فَإِن لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٞ فَطَلّٞۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ


Urdu

بخلا ف اِس کے جو لو گ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو اگر زور کی بار ش ہو جائے تو دو گنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اُس کے لیے کافی ہو جائے تم جو کچھ کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے


English

And the example of those who spend their wealth seeking means to the approval of Allah and assuring [reward for] themselves is like a garden on high ground which is hit by a downpour - so it yields its fruits in double. And [even] if it is not hit by a downpour, then a drizzle [is sufficient]. And Allah, of what you do, is Seeing


Tafsir — Bayan ul Quran

آدمی جب کسی چیز کے لیے عمل کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کے حق میں اپنی قوت ارادی کو مضبوط کرتاہے۔ اگر وہ اپنی خواہش کے تحت عمل کرے تو اس نے اپنے دل کو اپنی خواہش پر جمایا۔ اس کے برعکس آدمی اگر وہاں عمل کرے جہاں خدا چاہتا ہے کہ عمل کیا جائے تو اس نے اپنے دل کو خدا پر جمایا۔ دونوں راہوں میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی آسان حالات میں عمل کرنا ہوتا ہے اور کبھی مشکل حالات میں۔ تاہم مواقع جتنے شدید ہوں، آدمی کوجتنا زیادہ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا عمل کرنا پڑے اتنا ہی زیادہ وہ اپنے پیش نظر مقصد کے حق میں اپنے ارادہ کو مستحکم کرے گا۔ عام حالات میں اللہ کی راہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرنا بھی باعثِ ثواب ہے۔ مگر جب مخالف اسباب کی وجہ سے خصوصی قوت ارادی کو استعمال کرکے آدمی اللہ کی راہ میں اپنا اثاثہ دے تو اس کا ثواب اللہ کے یہاں بہت زیادہ ہے — جس مدمیں خرچ کرنا دنیوی اعتبار سے بے فائدہ ہو اس میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا، جس کو دینے کا دل نہ چاہے اس کو اللہ کے لیے دینا، جس سے خوش معاملگی پر طبیعت آمادہ نہ ہو اس سے اللہ کی خاطر خوش معاملگی کرنا، وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو سب سے زیادہ خدا پرستی پر جماتی ہیں اور اس کو خدا کی خصوصی رحمت و نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔ آدمی جوانی کی عمر میں باغ لگاتا ہے تاکہ بڑھاپے کی عمر میں اس کا پھل کھائے۔ پھر وہ شخص کیسا بدنصیب ہے جس کا ہرا بھرا باغ اس کی آخر عمر میںعین اس وقت برباد ہوجائے جب کہ وہ سب سے زیادہ اس کا محتاج ہو اور اس کے لیے وہ وقت بھی ختم ہوچکا ہو جب کہ وہ دوبارہ نیا باغ لگائے اور اس کو از سر نو تیار کرے۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جنھوںنے دین کا کام دنیوی عزت ومنفعت کے لیے کیا۔ وہ بظاہر نیکی اور بھلائی کا کام کرتے رہے۔ مگر ان کا کام صرف شکلا ً ہی عام دنیاداروں سے مختلف تھا۔ باعتبار حقیقت دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ عام دنیادار جس دنیوی ترقی اور ناموری کے لیے دنیوی نقشوں میں دوڑ دھوپ کررہے تھے، اسی دنیوی ترقی اور ناموری کے لیے انھوںنے دینی نقشوں میں دوڑ دھوپ جاری کردی۔ جو شہرت وعزت دوسرے لوگ دنیا کی عمارت میں اپنا اثاثہ خرچ کرکے حاصل کررہے تھے، اسی شہرت وعزت کو انھوں نے دین کی عمارت میں اپنا اثاثہ خرچ کرکے حاصل کرنا چاہا۔ ایسے لوگ جب مرنے کے بعد آخرت کے عالم میں پہنچیں گے تو وہاں ان کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ انھوںنے جو کچھ کیا اِسی دنیا کے لیے کیا۔ پھر وہ اپنے کيے کا پھل اگلی دنیا میں کس طرح پاسکتے ہیں— خدا کی نشانیاں ہمیشہ ظاہر ہوتی ہیں۔ مگر وہ خاموش زبان میں ہوتی ہیں۔ ان سے وہی سبق لے سکتا ہے جو اپنے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرچکا ہو۔


Connections

  • Previous: 2_264
  • Next: 2_266
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes