Recitation
Next: 2_260
Arabic
أَوۡ كَٱلَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرۡيَةٖ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحۡيِۦ هَٰذِهِ ٱللَّهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِاْئَةَ عَامٖ ثُمَّ بَعَثَهُۥۖ قَالَ كَمۡ لَبِثۡتَۖ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖۖ قَالَ بَل لَّبِثۡتَ مِاْئَةَ عَامٖ فَٱنظُرۡ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡۖ وَٱنظُرۡ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجۡعَلَكَ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِۖ وَٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡعِظَامِ كَيۡفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكۡسُوهَا لَحۡمٗاۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعۡلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
Urdu
یا پھر مثال کے طور پر اُس شخص کو دیکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی تھی اُس نے کہا: “یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے، اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟” اس پر اللہ نے اس کی روح قبض کر لی اور وہ سوبرس تک مُردہ پڑا رہا پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: “بتاؤ، کتنی مدت پڑے رہے ہو؟” اُس نے کہا: “ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا” فرمایا: “تم پر سو برس اِسی حالت میں گزر چکے ہیں اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ اِس کا پنجر تک بوسید ہ ہو رہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اِس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں” اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہو گئی، تو اس نے کہا: “میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
English
Or [consider such an example] as the one who passed by a township which had fallen into ruin. He said, “How will Allah bring this to life after its death?” So Allah caused him to die for a hundred years; then He revived him. He said, “How long have you remained?” The man said, “I have remained a day or part of a day.” He said, “Rather, you have remained one hundred years. Look at your food and your drink; it has not changed with time. And look at your donkey; and We will make you a sign for the people. And look at the bones [of this donkey] - how We raise them and then We cover them with flesh.” And when it became clear to him, he said, “I know that Allah is over all things competent
Tafsir — Bayan ul Quran
یہاں موت کے بعد دوبارہ زندہ کيے جانے کے جن دو تجربات کا ذکر ہے ان کا تعلق انبیاء سے ہے۔ پہلا تجربہ غالباً حضرت عزیر کے ساتھ گزرا جن کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ اور دوسرا تجربہ حضرت ابراہیم سے تعلق رکھتا ہے۔ جن کا زمانہ 1985-2160 ق م کے درمیان ہے۔ انبیاء خدا کی طرف سے اس ليے مقرر ہوتے ہیںکہ لوگوں کو غیبی حقائق سے باخبر کریں۔ اس ليے ان کو وہ غیبی چیزیں بے پردہ کرکے دکھا دی جاتی ہیں جن پر دوسروں کے لیے اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ انبیاء کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اس ليے ہوتاہے تاکہ وہ ان چیزوں کو ذاتی مشاہد بن کر ان کی بابت لوگوں کو با خبر کرسکیں۔ وہ لوگوں کو جن غیبی حقیقتوں کی خبر دیں ان کے متعلق کہہ سکیں کہ ہم ایک دیکھی ہوئی چیز سے تم کو خبردار کررہے ہیں، نہ کہ محض سنی ہوئی چیز سے۔ انبیا ء کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی جاتی ہے۔ نبوت سے پہلے ان کی پوری زندگی لوگوں کے سامنے اس طرح گزرتی ہے کہ ان سے کسی شخص کو جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تقریباً نصف صدی تک ماحول کے اندر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دینے کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو لوگوں کے سامنے ان غیبی حقیقتوں کے اعلان کے لیے کھڑا کرے جن کو آزمائش کی مصلحت کی بنا پر لوگوں سے چھپا دیاگیا ہے۔ ماحول کے یہ سب سے زیادہ سچے لوگ ایک طرف اپنے مشاہدہ سے لوگوں کو باخبر کرتے ہیں اور دوسری طرف عقل اور فطرت کے شواہد سے اس کو مدلل کرتے ہیں۔مزید یہ کہ انبیاء کو ہمیشہ شدید ترین حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنے قول سے پھرتے نہیںوہ انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ اپنی بات پر جمے رہتے ہیں۔ اس طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ فرضی طورپر انھوںنے کوئی بات نہیں گھڑ لی ہے۔ کیوں کہ گھڑی ہوئی بات کو پیش کرنے والا کبھی اتنے سخت حالات میں اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اورنہ اس کی بات خارجی کائنات سے اتنا زیادہ مطابق ہوسکتی ہے کہ وہ سراپا اس کی تصدیق بن جائے۔