Recitation
Next: 2_238
Arabic
وَإِن طَلَّقۡتُمُوهُنَّ مِن قَبۡلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيضَةٗ فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ إِلَّآ أَن يَعۡفُونَ أَوۡ يَعۡفُوَاْ ٱلَّذِي بِيَدِهِۦ عُقۡدَةُ ٱلنِّكَاحِۚ وَأَن تَعۡفُوٓاْ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۚ وَلَا تَنسَوُاْ ٱلۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ
Urdu
اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہے، لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو، تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے (اور مہر نہ لے) یا وہ مرد، جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے، نرمی سے کام لے (اور پورا مہر دیدے)، اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے
English
And if you divorce them before you have touched them and you have already specified for them an obligation, then [give] half of what you specified - unless they forego the right or the one in whose hand is the marriage contract foregoes it. And to forego it is nearer to righteousness. And do not forget graciousness between you. Indeed Allah, of whatever you do, is Seeing
Tafsir — Bayan ul Quran
نکاح اور طلاق کے قوانین بیان کرتے ہوئے بار بار تقویٰ اور احسان کی تلقین کی جارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی حکم کو اس کی اصلی روح کے ساتھ زیرِ عمل لانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کے افراد خالص قانونی معاملہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنا خود اپنے بارے میں بہتر سلوک نہ کيے جانے کا خطرہ مول لینا ہے۔ کیوں کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے یہاں پیش ہونا ہے اور وہاں نہ لفظی تاویلیں کسی کے کام آئیں گی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ معاملہ سے متعلق کسی بات کو چھپا سکے۔ اگر نکاح کے وقت عورت کا مہر مقرر ہوا اور تعلق قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوگئی تو باعتبار قانون آدھا مہر دینا لازم کیا گیا ہے۔ مگر خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ دونوں فريق اس معاملہ میں قانونی برتاؤ کے بجائے فیاضانہ برتاؤ كا طريقه اختيار كرنا چاهيں۔ عورت کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب تعلق قائم نہیں ہوا تو میں آدھا مہر بھی چھوڑ دوں۔ مرد کے اندر یہ جذبہ ابھرے کہ اگر چہ قانوناً میرے اوپر صرف آدھے کی ذمہ داری ہے مگر فیاضی کا تقاضا ہے کہ میں پورا کا پورا ادا کردوں— فیاضی اور وسعتِ ظرف کا یہی مزاج تمام معاملات میں مطلوب ہے۔ وہی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جس کے افراد کا یہ حال ہو کہ ہر ایک دوسرے کو دینا چاہے، نہ یہ کہ ہر ایک دوسرے سے لینے کا حریص بنا ہوا ہو۔ مزید یہ کہ وسعتِ ظرف کا یہ معاملہ دشمنی کے وقت بھی ہو، نہ کہ صرف دوستی کے وقت۔