Recitation

Next: 2_226


Arabic

لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوبُكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٞ


Urdu

جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، اُن کی باز پرس وہ ضرور کرے گا اللہ بہت در گزر کرنے والا اور بردبار ہے


English

Allah does not impose blame upon you for what is unintentional in your oaths, but He imposes blame upon you for what your hearts have earned. And Allah is Forgiving and Forbearing


Tafsir — Bayan ul Quran

ضد اور غصہ میں کبھی ایک آدمی قسم کھالیتا ہے کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ کوئی نیک سلوک نہیں کروں گا۔ قدیم زمانہ میں عربوں میں اس طرح کی قسموں کا بہت رواج تھا۔ وہ ایک بھلائی کا کام یا ایک اصلاح کا کام نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور جب ان کو اس نوعیت کے کام کے لیے پکارا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہم تو اس کو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔یہ کہنا کہ میں بھلائی کا کام نہ کروں گا ، یوں بھی ایک غلط بات ہے اور اس کو خدا کے نام کی قسم کھا کر کہنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ خدا تو وہ ہستی ہے جو سراپا رحمت اور خیر ہے۔ پھر ایسے خدا کا نام لے کر اپنے کو رحمت اور خیر کے کاموں سے الگ کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے — بگاڑ ہر حال میں برا ہے۔ لیکن اگر بگاڑ کو خدایا اس کے دین کا نام لے کر کیا جائے تو اس کی برائی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ بعض لوگ قسم کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور غیر ارادی طورپر قسم کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے اور ہر آدمی کو اس سے بچنا چاہيے۔ تاہم میاں بیوی کے تعلق کی نزاکت کی وجہ سے اس طرح کے معاملات میں ایسی قسم کو قانونی طورپر غیر موثر قرار دیا گیا۔ البتہ وہ کلام جو آدمی سوچ سمجھ کر منھ سے نکالے اور جس کے ساتھ قلبی ارادہ شامل ہوجائے، اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس ليے اگر کوئی شخص ارادۃً یہ قسم کھالے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اس کو قابل لحاظ قرار دے کر اس کو ایک قانونی مسئلہ بنا دیا گیا اور اس کے احکام مقرر کيے گئے۔ خاندانی نظام میں، خواہ مرد ہو یا عورت، ہر ایک کے حقوق بھی ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں بھی۔ ہر فرد کو چاہيے کہ دوسرے سے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسرے کو اس کاحق بھی پوری طرح ادا کرے۔ کوئی شخص اتفاقی حالات یا اپنی فطری بالا دستی سے فائدہ اٹھا کر اگر دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے گا تو وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔


Connections

  • Previous: 2_224
  • Next: 2_226
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes