Recitation

Next: 2_199


Arabic

لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡۚ فَإِذَآ أَفَضۡتُم مِّنۡ عَرَفَٰتٖ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ عِندَ ٱلۡمَشۡعَرِ ٱلۡحَرَامِۖ وَٱذۡكُرُوهُ كَمَا هَدَىٰكُمۡ وَإِن كُنتُم مِّن قَبۡلِهِۦ لَمِنَ ٱلضَّآلِّينَ


Urdu

اور اگر حج کے ساتھ ساتھ اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہں پھر جب عرفات سے چلو، تو مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھیر کر اللہ کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو، جس کی ہدایت اس نے تمہیں دی ہے، ورنہ اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے


English

There is no blame upon you for seeking bounty from your Lord [during Hajj]. But when you depart from ‘Arafat, remember Allah at al- Mash’ar al-Haram. And remember Him, as He has guided you, for indeed, you were before that among those astray


Tafsir — Bayan ul Quran

اصل چیز اللہ کا تقویٰ ہے۔ کسی کے اندر یہ مطلوب حالت موجود ہو تو اس کے بعد حج کے دوران معاشی ضرورت کے تحت اس کا کچھ کاروبار کرلینا یا بعض مراسم حج کی ادائیگی میں کسی کا آگے یا کسی کا پیچھے ہوجانا کوئی حرج پیدا نہیں کرتا۔ حج کے دوران جو فضا جاری رہنی چاہيے وہ ہے اللہ کا خوف، اللہ کی یاد، اللہ کی نعمتوں کا شکر، اللہ کے لیے حوالگی کا جذبہ۔ حج کے دوران کوئی ایسا فعل نہیں ہونا چاہيے جو ان کیفیات کے خلاف ہو۔ مثلاً کسی شخص یا گروہ کے لیے عبادت کی ادائیگی كے موقع پر اپني برتري كا اظهار يا آباء و اجداد کے کارنامے بیان کرنا وغيره، بالواسطہ طور پر اپنے کو نمایاں کرنے کی ایک صورت ہے۔ یہ چیزیں ایک ایسی عبادت کے ساتھ بے جوڑ ہیں جو یہ بتاتی ہو کہ تمام انسان یکساں ہیں، جس میں اس بات کا اعلان کیا جاتا ہو کہ تمام بڑائی صرف اللہ کے لیے ہے۔ حج کے زمانہ میں بھی اگر آدمی ان چیزوں کی تربیت حاصل نہ کرے تو زندگی کے بقیہ لمحات میں وہ کس طرح ان پر قائم ره سکے گا۔ دعائیں، خاص طورپر حج کی دعائیں، آدمی کی اندرونی حالت کا اظہار ہیں۔ کوئی شخص آخرت کی عظمتوں کو اپنے دل میں ليے ہوئے جی رہا ہو تو حج کے مقامات پر اس کے دل سے آخرت والی دعائیں ابلیں گی۔ اس کے برعکس، جو شخص دنیا کی چیزوں میں اپنا دل لگائے ہوئے ہو، وہ حج کے مواقع پر اپنے خدا سے سب سے زیادہ جو چیز مانگے گا وہ وہی ہوگی جس کی تڑپ ليے ہوئے وہ وہاں پہنچا تھا۔ اور سب سے بہتر دعا تو یہ ہے کہ آدمی اپنے رب سے کہے کہ خدایا دنیا میں تیرے نزدیک جو چیز بہتر ہو وہ مجھ کو دنیا میںدے دے اور آخرت میں تیرے نزدیک جو چیز بہتر ہو وہ مجھ کو آخرت میں دے دے اور اپني ناراضگي سے مجھ کو بچالے۔ ’’تم اسی کے پاس اكٹھا کيے جاؤ گے‘‘ یہ حج کا سب سے بڑا سبق ہے جو عرفات کے میدان میں دنیا بھر کے لاکھوں انسانوں کو بیک وقت جمع کرکے دیا جاتا ہے۔ عرفات کا اجتماع قیامت کے اجتماع کی ایک تمثیل ہے۔


Connections

  • Previous: 2_197
  • Next: 2_199
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes