Recitation

Next: 2_197


Arabic

وَأَتِمُّواْ ٱلۡحَجَّ وَٱلۡعُمۡرَةَ لِلَّهِۚ فَإِنۡ أُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۖ وَلَا تَحۡلِقُواْ رُءُوسَكُمۡ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡهَدۡيُ مَحِلَّهُۥۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ بِهِۦٓ أَذٗى مِّن رَّأۡسِهِۦ فَفِدۡيَةٞ مِّن صِيَامٍ أَوۡ صَدَقَةٍ أَوۡ نُسُكٖۚ فَإِذَآ أَمِنتُمۡ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۚ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖ فِي ٱلۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ إِذَا رَجَعۡتُمۡۗ تِلۡكَ عَشَرَةٞ كَامِلَةٞۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمۡ يَكُنۡ أَهۡلُهُۥ حَاضِرِي ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ


Urdu

اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوا لے، تو اُسے چاہیے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے (اور تم حج سے پہلے مکے پہنچ جاؤ)، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور ا گر قربانی میسر نہ ہو، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اِس طرح پورے دس روزے رکھ لے یہ رعایت اُن لوگوں کے لیے ہے، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں اللہ کے اِن احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے


English

And complete the Hajj and ‘umrah for Allah. But if you are prevented, then [offer] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And do not shave your heads until the sacrificial animal has reached its place of slaughter. And whoever among you is ill or has an ailment of the head [making shaving necessary must offer] a ransom of fasting [three days] or charity or sacrifice. And when you are secure, then whoever performs ‘umrah [during the Hajj months] followed by Hajj [offers] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And whoever cannot find [or afford such an animal] - then a fast of three days during Hajj and of seven when you have returned [home]. Those are ten complete [days]. This is for those whose family is not in the area of al-Masjid al-Haram. And fear Allah and know that Allah is severe in penalty


Tafsir — Bayan ul Quran

زمانہ جاہلیت کے عربوںمیں بھی حج کا رواج تھا۔ مگر وہ ان کے لیے گویا ایک قومی رسم یا تجارتی میلہ تھا، نہ کہ اللہ واحد کی عبادت۔ مگر حج وعمرہ ہو یا اور کوئی عبادت، ان کی اصل قیمت اسی وقت ہے جب کہ وہ خالصۃً اللہ کے لیے ادا کی جائیں۔ جو شخص اپنی روزانہ زندگی میں اللہ کا پرستار بنا ہوا ہو، جب وہ اللہ کی عبادت کے لیے اٹھتاہے تو اس کی ساری نفسیات سمٹ کر اسی کے اوپر لگ جاتی ہیں۔ وہ ایک ایسی عبادت کا تجربہ کرتا ہے جو ظاہری طور پر دیکھنے میںتو آداب ومناسک کا ایک مجموعہ ہوتی ہے، مگر اپنی اندرونی روح کے اعتبار سے وہ ایک ایسی ہستی کا اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دینا ہوتاہے جو اللہ سے ڈرتاہو اور آخرت کی پکڑ کا اندیشہ جس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہو۔ مومن وہ ہے جو شہوت کے لیے جینے کے بجائے مقصد کے لیے جینے لگے۔ وہ اپنے معاملات میں خدا کی نافرمانی سے بچنے والا ہو اور اجتماعی زندگی میں آپس کی لڑائی جھگڑے سے بچا رہے۔ حج کا سفر ان اخلاقی اوصاف کی تربیت کے لیے بہت موزوں ہے، اس ليے اس میں خصوصی طورپر ان کی تاکید کی گئی۔ اسی طرح حج میں سفر کا پہلو لوگوں کو سامان سفر کے اہتمام میں لگا دیتاہے۔ مگر اللہ کے مسافر کی سب سے بڑی زاد راہ تقویٰ ہے۔ ایک شخص سامان سفر کے پورے اہتمام کے ساتھ نکلے، دوسرا شخص اعتماد علی اللہ کا سرمایہ لے کر نکلے تو دوران سفر دونوں کی نفسیات یکساں نہیں ہوسکتیں۔ ’’اے عقل والو میرا تقویٰ اختیار کرو‘‘ سے معلوم ہوا کہ تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق عقل سے ہے۔ تقویٰ کسی ظاہری ہیئت کا نام نہیں، یہ عقل یا شعور کی ایک حالت ہے۔ انسان جب شعور کی سطح پر اپنے رب کو پالیتا ہے تو اس کا ذہن اس کے بعد خدا کے جلال وجمال سے بھر جاتاہے۔ اس وقت روح کی لطیف سطح پر جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں انھیں کا نام تقویٰ ہے۔


Connections

  • Previous: 2_195
  • Next: 2_197
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes