Recitation

Next: 2_166


Arabic

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَندَادٗا يُحِبُّونَهُمۡ كَحُبِّ ٱللَّهِۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَشَدُّ حُبّٗا لِّلَّهِۗ وَلَوۡ يَرَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِذۡ يَرَوۡنَ ٱلۡعَذَابَ أَنَّ ٱلۡقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعٗا وَأَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعَذَابِ


Urdu

(مگر وحدت خداوندی پر دلالت کرنے والے اِن کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور اُن کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں کاش، جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انہیں سُوجھنے والا ہے وہ آج ہی اِن ظالموں کو سوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کے قبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے


English

And [yet], among the people are those who take other than Allah as equals [to Him]. They love them as they [should] love Allah. But those who believe are stronger in love for Allah. And if only they who have wronged would consider [that] when they see the punishment, [they will be certain] that all power belongs to Allah and that Allah is severe in punishment


Tafsir — Bayan ul Quran

آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ ایک خارجی سہارا چاہتا ہے، ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے اور اس کے لیے اعتماد ویقین کی بنیاد ہو۔ کسی کو اس حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کو اپنا معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طورپر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے محبت وعقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہوجاتے ہیں۔ آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ کسی سے حُبّ شدید کرے، اور جس سے کوئی حب شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں چوں کہ خدا نظرنہیں آتاہے اس ليے ظاہر پرست انسان عام طور پرنظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتاہے جو دراصل خدا کو دینا چاہيے۔ یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں جو کسی ظاہری خصوصیت کی بنا پر لوگوں کا مرجع بن جاتے ہیں۔ آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقۃ ًاس ليے تھا کہ اس کو رب العالمین سے پُرکیا جائے وہاں وہ کسی سردار یا پیشوا کو بٹھالیتا ہے۔ ایسا اس ليے ہوتا ہے کہ کسی انسان کے گرد کچھ ظاہری ر ونق دیکھ کر لوگ اس کو ’’بڑا‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی اپنے غیر معمولی شخصی اوصاف سے لوگوں کو متاثر کرلیتاہے۔ کوئی کسی گدی پر بیٹھ کر سیکڑوں سال کی روایات کا وارث بن جاتاہے۔ کسی کے یہاں انسانوں کی بھیڑ دیکھ کر لوگوں کو غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ وہ عام انسانوں سے بلند تر کوئی انسان ہے۔ کسی کے گرد پُراسرار کہانیوں کا ہالہ تیار ہوجاتا ہے اور سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ غیر معمولی قوتوں کا حامل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا کی اس کائنات میں خدا کے سوا کسی کو کوئی زور یا بڑائی حاصل نہیں۔ انسان کو خدا کا درجہ دینے کا کاروبار اسی وقت تک ہے، جب تک خدا ظاہر نہیںہوتا۔ خدا کے ظاہر ہوتے ہی صورت حال اس قدر بدل جائے گی کہ ’’بڑے‘‘ اپنے ’’چھوٹوں‘‘ سے بھاگنا چاہیں گے اور چھوٹے اپنے ’’بڑوں‘‘ سے۔ وہ وابستگی جس پر آدمی دنیا میں فخر کرتاتھا، جس سے وفاداری اور شیفتگی دکھا کر آدمی سمجھتا تھا کہ ا س نے سب سے بڑی چٹان کو پکڑ رکھا ہے وہ آخرت کے دن اس طرح بے معنی ثابت ہوگی جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہ ہو۔آدمی اپنی گزری ہوئی زندگی کو حسرت کے ساتھ دیکھے گا اور کچھ نہ کرسکے گا۔


Connections

  • Previous: 2_164
  • Next: 2_166
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes