Recitation
Next: 2_102
Arabic
وَلَمَّا جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٞ لِّمَا مَعَهُمۡ نَبَذَ فَرِيقٞ مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ كَأَنَّهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
Urdu
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی، تو اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں
English
And when a messenger from Allah came to them confirming that which was with them, a party of those who had been given the Scripture threw the Scripture of Allah behind their backs as if they did not know [what it contained]
Tafsir — Bayan ul Quran
قدیم زمانہ میں بہت سی قوموں کو ان پچھلی اہل کتاب کی سرکشی کے نتیجہ میں بار بار ان کو سخت سزائیں دی گئیں ۔ سنت اللہ کے مطابق ہر سزا سے پہلے پیغمبروں کی زبان سے اس کی پیشگی خبر دی جاتی۔ یہ خبر اللہ کی طرف سے جبریل فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر کے پاس آتی اور وہ اس سے اپنی قوم کو آگاہ کرتے۔اس قسم کے واقعات میں اصل سبق یہ تھا کہ آدمی کو چاهيے کہ وہ اللہ کی نافرمانی سے بچے تاکہ وہ عذاب الٰہی کی زد میں نہ آجائے۔ مگر عرب کے اہل کتاب ان واقعات سے اس قسم کا سبق نہ لے سکے۔ اس کے بجائے وہ کہنے لگے کہ جبریل فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ آسمان سے ہمارے خلاف احکام لے کر آتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے جبریل کے ذریعہ مجھ پر وحی کی ہے تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ جبریل تو ہمارا پرانا دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت جو صرف اسرائیلی گروہ کا حق تھا، اس کو اس نے ایک اور قبیلہ کے فرد تک پہنچا دیا۔ اس قسم کی بے معنی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو فسق اور بے قیدی کی زندگی گزاررہے ہوں ۔ اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ نفس پرستی، آبائی تقلید، نسلی اور قومی عصبیت کی سطح پر جی رہے تھے۔ اور کچھ نمائشی قسم کے مذہبی کام کرکے ظاہر کرتے تھے کہ وہ عین دین خداوندی پر قائم ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی جھوٹی دین داری میں مبتلا ہوں وہ سچے اور بے آمیز دین کی دعوت سن کر ہمیشہ بگڑ جاتے ہیں۔ کیوںکہ ایسی دعوت ان کو ان کے بڑائي كے مقام سے اتارنے کے ہم معنی نظرآتی ہے۔وہ مشتعل نفسیات کے تحت ایسی باتیں بولنے لگتے ہیں جوگرامر کے اعتبار سے درست ہونے کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ فرشتوں کا آنا اور رسولوں کا مبعوث ہونا سب مکمل طورپر خدائی منصوبہ کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب دلائل یہ ظاہر کررہے ہوں کہ پیغمبر عربی کے پاس وہی چیزآئی ہے جو ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ پر آئی تھی اور وہ پچھلے آسمانی صحیفوں کی پیشین گوئیوں کے عین مطابق ہے تو یہ صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے — آدمی بہت سی باتیں یہ ظاہر کرنے کے ليے بولتا ہے کہ وہ ایمان پر قائم ہے، حالاں کہ وہ باتیں صرف اس کا ثبوت ہوتی ہیں کہ آدمی کا ایمان اور خدا پرستی سے کوئی تعلق نہیں۔