Recitation
Next: 19_69
Arabic
فَوَرَبِّكَ لَنَحۡشُرَنَّهُمۡ وَٱلشَّيَٰطِينَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَنَّمَ جِثِيّٗا
Urdu
تیرے رب کی قسم، ہم ضرور ان سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی گھیر لائیں گے، پھر جہنم کے گرد لا کر انہیں گھٹنوں کے بل گرا دیں گے
English
So by your Lord, We will surely gather them and the devils; then We will bring them to be present around Hell upon their knees
Tafsir — Bayan ul Quran
عرب کے لوگ جو قرآن کے پہلے مخاطب تھے وہ زندگی بعد موت کو مانتے تھے۔ مگر یہ ماننا صرف رسمی ماننا تھا، وہ حقیقی ماننا نہ تھا۔ قرآن میں آخرت سے متعلق جتنے الفاظ ہیں وہ سب پہلے سے ان کی زبان میں موجود تھے۔ مگر ان کی زندگی پر اس ماننے کا کوئی اثر نہ تھا۔ ان کی عملی زندگی ایسی تھی گویا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہوں کہ— زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ مرنے کے بعد کون ہم کو اٹھائے گا اور کون ہمارا حساب لے گا۔ مگر یہ غفلت یا انکار صرف اس لیے ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتا۔ اگر وہ غور کرے تو اس کی پہلی پیدائش ہی اس کے لیے اس کی دوسری پیدائش کی دلیل بن جائے۔ یہاں ’’شیاطین‘‘ سے مراد برے لیڈر ہیں۔ یہ لیڈر پر فریب الفاظ بول کر عوام کو بہکاتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ وہی کام کرتے ہیں جو شیطان کرتاہے۔ موجودہ دنیا میں یہ لیڈر عظمت کے مقام پر کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس لیے لوگ ان کو نظر انداز نہیں کرپاتے۔ مگر آخرت میں ان کی عظمت ختم ہوجائے گی۔ وہاں یہ بڑے لوگ بھی اسی طرح ذلت کے گڑھے میں ڈال دئے جائیں گے جس طرح ان کے چھوٹے لوگ۔