Recitation
Next: 18_83
Arabic
وَأَمَّا ٱلۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَٰمَيۡنِ يَتِيمَيۡنِ فِي ٱلۡمَدِينَةِ وَكَانَ تَحۡتَهُۥ كَنزٞ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَٰلِحٗا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبۡلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنزَهُمَا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ وَمَا فَعَلۡتُهُۥ عَنۡ أَمۡرِيۚ ذَٰلِكَ تَأۡوِيلُ مَا لَمۡ تَسۡطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرٗا
Urdu
اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے اِن بچّوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچّے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پرکیا گیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے
English
And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure for them, and their father had been righteous. So your Lord intended that they reach maturity and extract their treasure, as a mercy from your Lord. And I did it not of my own accord. That is the interpretation of that about which you could not have patience
Tafsir — Bayan ul Quran
ان مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا ہر وقت موجودہ دنیا کي نگرانی کررہا ہے۔ اس نے اگرچہ امتحان کی مصلحت کی بناپر اس دنیا کا نظام اسباب وعلل کے تحت قائم کررکھا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ اس نظام میں بار بار مداخلت کرتا رہتا ہے۔ خدا کہیں تعمیر کا طریقہ اختیار کرتاہے اور کہیں بظاہر تخریب کا۔ مگر وسیع تر مصلحت کے اعتبار سے سب اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور اس بات کا تیقن حاصل کرنا ہوتاہے کہ اسباب کی آزادانہ گردش میں تخلیق کے اصل مقاصد فوت نہ ہونے پائیں۔