Recitation
Next: 18_80
Arabic
أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتۡ لِمَسَٰكِينَ يَعۡمَلُونَ فِي ٱلۡبَحۡرِ فَأَرَدتُّ أَنۡ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٞ يَأۡخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصۡبٗا
Urdu
اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا
English
As for the ship, it belonged to poor people working at sea. So I intended to cause defect in it as there was after them a king who seized every [good] ship by force
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت خضر نے کشتی کو بیکار نہیں کیا تھا بلکہ وقتی طورپر اس کو عیب دار بنا دیا۔ اس کی مصلحت یہ تھی کہ کشتی جس طرف جارہی تھی اس طرف آگے ایک بادشاہ تھا جو غالباً اپنی کسی جنگی مہم کے لیے اچھی کشتیوں کو زبردستی اپنے قبضہ میں لے رہا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس کو ایسا بنا دیا کہ بادشاہ کے کارندے اس کو دیکھیں تو اس کو ناقابلِ توجہ سمجھ کر اسے چھوڑ دیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ بددل نہ ہو۔ وہ یہ سوچ کر اس پر راضی ہوجائے کہ خدا نے جو کچھ کیا ہے اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ چھپا ہوگا، اگر چہ وہ ابھی اس سے پوری طرح باخبر نہیں۔