Recitation
Next: 18_77
Arabic
قَالَ إِن سَأَلۡتُكَ عَن شَيۡءِۭ بَعۡدَهَا فَلَا تُصَٰحِبۡنِيۖ قَدۡ بَلَغۡتَ مِن لَّدُنِّي عُذۡرٗا
Urdu
موسیٰؑ نے کہا ” اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا
English
[Moses] said, “If I should ask you about anything after this, then do not keep me as a companion. You have obtained from me an excuse
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔ اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔