Recitation
Next: 18_75
Arabic
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَٰمٗا فَقَتَلَهُۥ قَالَ أَقَتَلۡتَ نَفۡسٗا زَكِيَّةَۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٖ لَّقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـٔٗا نُّكۡرٗا
Urdu
پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اس شخص نے اسے قتل کر دیا موسیٰؑ نے کہا “آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا
English
So they set out, until when they met a boy, al-Khidh r killed him. [Moses] said, “Have you killed a pure soul for other than [having killed] a soul? You have certainly done a deplorable thing
Tafsir — Bayan ul Quran
اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔ اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔