Recitation
Next: 18_62
Arabic
فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِي ٱلۡبَحۡرِ سَرَبٗا
Urdu
پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہو گئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سرنگ لگی ہو
English
But when they reached the junction between them, they forgot their fish, and it took its course into the sea, slipping away
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا فرشتوں کے ذریعہ مسلسل دنیا کا انتظام کررہا ہے۔ انسان چوں کہ اس انتظام کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بھیدوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ وہ کم تر واقفیت کی بناپر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہوجاتاہے۔ اس کے علاج کے لیے خدا نے بالواسطہ مشاہدہ کا انتظام کیا۔ اس نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو مخفی دنیا کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ اس کی حکمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے انسانوں کو اس سے باخبر کردیں۔ یہاں حضرت موسیٰ کے جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا ایک استثنائی واقعہ ہے جس کے ذریعے ان کو خداکے چھپے ہوئے نظام کی ایک جھلک دکھائی گئی۔ حضرت موسیٰ نے یہ سفر غالباً مصر وسوڈان کے درمیان اپنے ایک نوجوان شاگرد (یوشع بن نون) کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے بطور علامت انھیں بتایا تھاکہ تم چلتے رہو۔ یہاں تک کہ جب تم اس جگہ پہنچو جہاں دو دریا باہم ملتے ہوں تو وہاں تم کو ہمارا ایک بندہ (غالباً فرشتہ به شکل انسان) ملے گا۔ تم اس کے ساتھ ہو لینا۔