Recitation

Next: 18_57


Arabic

وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۚ وَيُجَٰدِلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّۖ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَمَآ أُنذِرُواْ هُزُوٗا


Urdu

رسولوں کو ہم اس کام کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دے دیں مگر کافروں کا حال یہ ہے کہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنا لیا ہے


English

And We send not the messengers except as bringers of good tidings and warners. And those who disbelieve dispute by [using] falsehood to [attempt to] invalidate thereby the truth and have taken My verses, and that of which they are warned, in ridicule


Tafsir — Bayan ul Quran

خدا کی بات سب سے زیادہ سچی بات ہے۔ تمام بہترین دلائل اس کی موافقت کرتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ کوئی حقیقی دلیل نہیں پاتے جس کے ذریعہ وہ اسے رد کرسکیں۔ ان کے پاس ہمیشہ صرف بے اصل باتیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اس کو زیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔وہ ٹھوس دلائل کا مقابلہ جھوٹے اعتراضات سے کرتے ہیں۔ وہ سنجیدہ کام کو مذاق میں گم کردینا چاہتے ہیں۔ یہ سب وہ اس لیے کرتے ہیں کہ داعی کو عوام کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرسکیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرکے وہ خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کررہے ہیں۔ آدمی کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ مگر جب وہ اپنی سوجھ بوجھ کو غلط رخ پر استعمال کرتاہے تو اس کا ذہن اسی غلط رخ پر چل پڑتاہے جس رخ پر اس نے اس کو چلایا ہے۔ اس کے بعد اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ کسی بات کو اس کے صحیح رخ سے دیکھے۔ اور اس کی واقعی اہمیت کو سمجھ سکے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بے آنکھ ہوجاتاہے۔ وہ کان رکھتے ہوئے بے کان ہوجاتاہے۔


Connections

  • Previous: 18_55
  • Next: 18_57
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes