Recitation
Next: 18_51
Arabic
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ كَانَ مِنَ ٱلۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِۦٓۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُۥ وَذُرِّيَّتَهُۥٓ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِي وَهُمۡ لَكُمۡ عَدُوُّۢۚ بِئۡسَ لِلظَّـٰلِمِينَ بَدَلٗا
Urdu
یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اُس کو اور اس کی ذرّیّت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ بڑا ہی برا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں
English
And [mention] when We said to the angels, “Prostrate to Adam,” and they prostrated, except for Iblees. He was of the jinn and departed from the command of his Lord. Then will you take him and his descendants as allies other than Me while they are enemies to you? Wretched it is for the wrongdoers as an exchange
Tafsir — Bayan ul Quran
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس ایک عبادت گزار جن تھا۔ وہ بظاہر عابد وزاہد بنا ہوا تھا۔ مگر جب خدا نے آدم کے سامنے جھکنے کا حکم دیا تووہ گھمنڈ کی بنا پر جھکنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اب جو لوگ گھمنڈ کے جذبہ کے تحت حق کے سامنے جھکنے سے انکار کریں وہ سب ابلیس کی ذرّیت ہیں۔ خواہ وہ بظاہر عبادت گزارہی کیوں نہ دکھائی دیتے ہوں۔ خدا کے سامنے جھکنا دراصل خداکے مقابلہ میںاپنے عجز کا اقرار کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں خدا کے سامنے جھکنے والا ہو تو جہاں کہیں بھی اس کا سامنا حق سے ہوگا وہ فوراً جھک جائے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص ظاہری طورپر سجدہ گزار ہو مگر اپنے اندر گھمنڈ کی نفسیات لیے ہوئے ہو وہ ایسے موقع پر بآسانی سجدہ کر لے گا جہاں اس کی اَنا (ego)کو ٹھیس نہ لگتی ہو۔ مگر جہاں اَناکو جھکانے کی قیمت پر اپنے آپ کو جھکانا پڑے وہاں اچانک وہ سرکش بن جائے گا اور جھکنے سے انکار کردے گا۔ جب حق کی پکار اٹھے اور کچھ لوگ ابلیس اور اس کی ذریت کے اثر میں آکر اس کو قبول نہ کریں تو گویا وہ ابلیس اور اس کی ذرّیت کو خدا کا بدل بنا رہے ہیں۔ جہاں انھیں خدا کے ڈر سے حق کے آگے جھک جانا چاہیے تھا وہاں وہ جھوٹے معبودوں کے ڈر سے اس کے آگے جھکنے سے انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگ بدترین ظالم ہیں۔ بہت جلد انھیں معلوم ہوجائے گا کہ خدا کو چھوڑ کر انھوںنے جن کے اوپر بھروسہ کیا تھا وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں۔