Recitation
Next: 18_49
Arabic
وَعُرِضُواْ عَلَىٰ رَبِّكَ صَفّٗا لَّقَدۡ جِئۡتُمُونَا كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةِۭۚ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ أَلَّن نَّجۡعَلَ لَكُم مَّوۡعِدٗا
Urdu
اور سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کیے جائیں گے لو دیکھ لو، آ گئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے
English
And they will be presented before your Lord in rows, [and He will say], “You have certainly come to Us just as We created you the first time. But you claimed that We would never make for you an appointment
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا میں جو حالات جمع کيے گئے ہیں وہ محض امتحان کے لیے ہیں۔ امتحان کی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد یہ حالات باقی نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد زمین کی ساری زندگی بخش خصوصیات ختم کردی جائیں گی۔ وہ ایسی خالی جگہ ہوجائے گی جہاں نہ کسی کے لیے اکڑنے کا سامان ہوگا اور نہ فخر کرنے کا۔ دنیا میں امتحان کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو اختیار کی فضا میں پارہا ہے۔ مگر قیامت اس فضاکو یکسر ختم کردے گی۔ اس دن لوگ بے یارومدد گار فضا میں اپنے رب کے پاس جمع کيے جائیں گے۔ تمام لوگ اپنے مالک کے سامنے اس کا فیصلہ سننے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ خدا کے پاس ہر شخص کی زندگی کا انتہائی مکمل ریکارڈ ہوگا۔ اس کے مطابق وہ کسی کو انعام دے گا اور کسی کے لیے سزا کا حکم سنائے گا۔ موجودہ دنیا میں انسان کی بیک وقت دو حالتیں ہیں۔ ایک اعتبار سے وہ عاجز ہے اور دوسرے اعتبار سے آزاد۔ آدمی اگر اپنے عجز کو دیکھے تو اس کے اندر خدا کی طرف رجوع کا جذبہ پیدا ہوگا۔ مگر انسان صرف اپنی آزادی کی حالت کو دیکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غافل اور سرکش بن کر رہ جاتا ہے۔