Recitation
Next: 18_47
Arabic
ٱلۡمَالُ وَٱلۡبَنُونَ زِينَةُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّـٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابٗا وَخَيۡرٌ أَمَلٗا
Urdu
یہ مال اور یہ اولاد محض دُنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی اُمّیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں
English
Wealth and children are [but] adornment of the worldly life. But the enduring good deeds are better to your Lord for reward and better for [one’s] hope
Tafsir — Bayan ul Quran
دنیا آخرت کی تمثیل ہے۔ پانی پاکر زمین جب سر سبز ہوجاتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح رہے گی، مگر اس کے بعد موسم بدلتا ہے اور سارا سبزہ سوکھ کر ختم ہو جاتاہے۔ یہی حال دنیا کی رونق کا ہے۔ موجودہ دنیا کی رونقیں آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ مگر یہ تمام رونقیں انتہائی عارضی ہیں۔ قیامت بہت جلد ان کو اس طرح ختم کردے گی کہ ایسا معلوم ہوگا جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ دنیا کی رونقیں باقی نہیں رہتیں مگر یہاں ایک اور چیز ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اور وہ انسان کے نیک اعمال ہیں۔ جس طرح زمین میں بیج ڈالنے سے باغ اگتا ہے اسی طرح اللہ کی یاد اور اللہ کی فرماں برداری سے بھی ایک باغ اگتاہے۔ اس باغ پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ مگر دنیوی باغ کے برعکس یہ دوسرا باغ آخرت میں اگتا ہے اور وہیں وہ اپنے اگانے والے کو ملے گا۔