Recitation
Next: 18_41
Arabic
فَعَسَىٰ رَبِّيٓ أَن يُؤۡتِيَنِ خَيۡرٗا مِّن جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا حُسۡبَانٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِيدٗا زَلَقًا
Urdu
تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے
English
It may be that my Lord will give me [something] better than your garden and will send upon it a calamity from the sky, and it will become a smooth, dusty ground
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔