Recitation

Next: 18_38


Arabic

قَالَ لَهُۥ صَاحِبُهُۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَكَفَرۡتَ بِٱلَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ سَوَّىٰكَ رَجُلٗا


Urdu

اُس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا “کیا تو کفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کھڑا کیا؟


English

His companion said to him while he was conversing with him, “Have you disbelieved in He who created you from dust and then from a sperm-drop and then proportioned you [as] a man


Tafsir — Bayan ul Quran

خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔


Connections

  • Previous: 18_36
  • Next: 18_38
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes