Recitation
Next: 18_33
Arabic
۞وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلٗا رَّجُلَيۡنِ جَعَلۡنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيۡنِ مِنۡ أَعۡنَٰبٖ وَحَفَفۡنَٰهُمَا بِنَخۡلٖ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمَا زَرۡعٗا
Urdu
اے محمدؐ! اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو دو شخص تھے ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی
English
And present to them an example of two men: We granted to one of them two gardens of grapevines, and We bordered them with palm trees and placed between them [fields of] crops
Tafsir — Bayan ul Quran
ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔ یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔