Recitation

Next: 18_28


Arabic

وَٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدٗا


Urdu

اے نبیؐ! تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے


English

And recite, [O Muhammad], what has been revealed to you of the Book of your Lord. There is no changer of His words, and never will you find in other than Him a refuge


Tafsir — Bayan ul Quran

قدیم مکہ میں جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر بے آمیز دین کو اپنا دین بنایا تھا ان کے لیے یہ اقدام کوئی سادہ چیز نہ تھی۔ یہ مفادات سے وابستہ نظام کو چھوڑ کر ایک ایسے عقیدہ کا ساتھ دینا تھا جس سے بظاہر کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔ پہلا گروہ نئے دین کو اختیار کرتے ہی وقت کے جمے ہوئے نظام سے کٹ گیا تھاجب کہ دوسرا گروہ پوری طرح وقت کے جمے ہوئے نظام کے زور پر کھڑا ہوا تھا۔ پہلے گروہ کے پاس صرف خدا کی یاد کی باتیں تھیں جس کی اہمیت آخرت میں ظاہر ہوگی جب کہ دوسرا گروہ ان چیزوں کا مالک بنا ہوا تھا جس کی قیمت اسی دنیا کے بازار میں ہوتی ہے۔ یہ ظاہری فرق اگر داعی کو متاثر کردے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین کی بے آمیز دعوت کی اہمیت اس کی نظرمیں کم ہوجائے گی۔ اور آمیزش والا دین اس کی نظر میں اہمیت اختیار کرلے گا جس کا علم بردار بن کر لوگ دنیا کی رونقیں حاصل کيے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بہت بڑی بھول ہے۔ کیوں کے یہ اس اصل مشن سے ہٹنا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ داعی اگر ایسا کرے تو وہ خدا کی مدد سے محروم ہوجائے گا۔ وہ خدا کی دنیا میں ایسا ہوجائے گا کہ کوئی درخت اس کو سایہ نہ دے اور کوئی پانی اس کی پیاس نہ بجھائے۔ چنانچہ ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد، اگر تم نے لوگوں کو قرآن نہ سنایا تو خداکے مقابلہ میں تمھارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی (يَقُولُ إِنْ أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ لَمْ تَتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ، فَإِنَّهُ لَا مَلْجَأَ لَكَ مِنَ اللَّهِ كَمَا قَالَ تَعَالَىيَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ [ 5:67 ]) تفسیر ابن کثیر، جلد 5 ، صفحہ 151 ۔


Connections

  • Previous: 18_26
  • Next: 18_28
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes